قربانی کے جانور چھیننے کا واقعہ، ایس ایچ او کی 1 سال کی سروس ضبط کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT
—ویڈیو گریب
کراچی کے علاقے عزیز آباد میں بیوپاری سے قربانی کے جانور چھیننے کے واقعے پر کراچی پولیس چیف جاوید عالم اوڈھو نے ایس ایچ او عزیز آباد کی 1 سال کی سروس ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے۔
ایڈیشنل آئی جی و کراچی پولیس چیف جاوید عالم اوڈھو نے حکم دیا ہے کہ 3 روز کے اندر ملزمان کو گرفتار، جانوروں اور رکشے کو تلاش کیا جائے، پیش رفت نہ ہونے پر سخت قانونی کارروائی ہو گی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز کراچی میں عائشہ منزل کے قریب ملزمان شہری سے قربانی کے جانور اور رکشہ چھین کر فرار ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیے کراچی: ملزمان شہری سے 3 دنبے اور رکشہ چھین کر فرارواقعے کے بعد کی ویڈیو میں متاثرہ شہری کو روتے دیکھا جا سکتا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق گزشتہ روز پیش آنے والے اس واقعے کا مقدمہ تھانہ عزیز آباد میں متاثرہ شہری راشد کی مدعیت میں درج کر لیا گیا ہے۔
مقدمے کے متن میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ شہری کے مطابق وہ اپنے 3 دنبے فروخت کرنے لے کر گیا تھا، دنبے فروخت نہ ہونے پر واپس اپنے گھر واقع ایف سی ایریا جا رہا تھا کہ عائشہ منزل کے قریب 2 موٹر سائیکلوں پر سوار 4 ملزمان نے اسے روکا اور یہ مسلح ملزمان تینوں دنبوں سمیت رکشہ چھین کر فرار ہو گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
کراچی:صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات ہوئی جس میں بلوچستان میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
صدر ِمملکت نے بلوچستان میں ترقی کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی۔
صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی، امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے، عوامی فلاح اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں کام کریں۔
ملاقات میں صوبائی وزیرِ آبپاشی صادق عُمرانی، وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی ظہور بلیدی، وزیرِ صحت میر بخت کاکڑ، وزیرِ لائیو اسٹاک سردار فیصل جمالی، وزیرِ صنعت و تجارت کویار ڈومکی، وزیرِ محنت غلام رسول عُمرانی اور پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر میر علی حسن زہری شریک تھے۔