ایران ٹرمپ کیساتھ جوہری معاہدہ کرلے ورنہ حملوں کا سامنا کرنے کیلئے تیار رہے ،سعودی عرب نے اسرائیل کا پیغام پہنچادیا
اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT
تہران (اوصاف نیوز)سعودی عرب کے وزیرِ دفاع نے گزشتہ ماہ تہران میں ایرانی حکام کو ایک دوٹوک پیغام دکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جوہری معاہدے پر مذاکرات کی پیشکش کو سنجیدگی سے لیں کیونکہ یہ اسرائیل کیساتھ جنگ کے خطرے سے بچنے کا واحد راستہ ہے۔
برطانوی نیوز ایجنسی کے ذرائع کے مطابق سعودی عرب کے 89 سالہ بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز نے اپنے بیٹے شہزادہ خالد بن سلمان کو یہ انتباہی پیغام لے کر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے پاس بھیجا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ طویل مذاکرات کیلئے زیادہ صبر نہیں رکھتے۔
شہزادہ خالد نے سینئر ایرانی حکام کے گروپ کو بتایا کہ ٹرمپ کی ٹیم جلد معاہدہ چاہے گی اور سفارت کاری کے لیے موقع جلد بند ہو سکتا ہے،امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرنا اس امکان سے بہتر ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوں تو اسرائیلی حملہ ہو جائے۔خطہ جو پہلے ہی غزہ اور لبنان میں حالیہ تنازعات سے دوچار ہےمزید کشیدگی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
ایران کے دارلحکومت تہران میں ایوانِ صدر میں ہونے والی بند کمرہ ملاقات میں ایرانی صدر مسعود پزیشکیان، مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف محمد باقری اور وزیر خارجہ عباس عراقچی موجود تھے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے اس ملاقات سے ایک ہفتہ پہلے اچانک اعلان کیا تھا کہ تہران کے ساتھ براہِ راست مذاکرات ہو رہے ہیں، جن کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام پر قدغن کے بدلے پابندیوں میں نرمی دینا ہے۔یہ اعلان اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی موجودگی میں کیا گیا، جو واشنگٹن کا دورہ کر رہے تھے۔
پاک بھارت جنگ چھڑی تو دونوں ممالک کیساتھ کوئی دلچسپی نہیں ہوگی،امریکی صدر ٹرمپ کا لاتعلقی کا اعلان
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔