ذرائع کے مطابق وزیراعظم آزاد کشمیر کی زیرصدارت ترقیاتی سیکٹرز کی کارکردگی اور زیرالتواء ادائیگیوں کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر چوہدری انوارالحق کی زیرصدارت ترقیاتی سیکٹرز کی کارکردگی اور زیرالتواء ادائیگیوں کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں پرنسپل سیکرٹری اور سیکرٹری صاحبان نے شرکت کی۔ اجلاس میں سیکرٹری صاحبان نے اپنے اپنے ڈویلپمنٹ سیکٹرز کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق نے کہا کہ روڈ انفراسٹرکچر، لوکل گورنمنٹ، فزیکل پلاننگ اینڈ ہاؤسنگ، برقیات، صحت عامہ، تعلیم، ٹورازم سمیت تمام ڈویلپمنٹ سیکٹرز کی زیرالتواء ادائیگیوں کو تین دن کے اندر اندر یکسو کرتے ہوئے رپورٹ پیش کریں۔ ترقیاتی منصوبوں کی ہر صورت مقررہ مدت میں تکمیل یقینی بنائی جائے، ترقیاتی منصوبوں کے کام کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جب منصوبوں کی مقررہ وقت میں تکمیل نہیں ہوتی تو ان کی لاگت بڑھ جاتی ہے جس کا بوجھ سرکاری خزانے پر پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے شدید مالی مشکلات کے باوجود تعمیر و ترقی کے پہیے کو رواں رکھا ہوا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ عوامی سہولیات کے منصوبوں پر خصوصی توجہ دی جائے اور بروقت مکمل کئے جائیں۔ سستی بجلی اور سستے آٹے کی فراہمی کے باوجود آزاد کشمیر میں تعمیر و ترقی کا عمل بھرپور انداز میں جاری ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: نے کہا کہ

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع