بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ، کراچی والوں کا پارہ ہائی، شدید احتجاج، ہائی وے بند
اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT
کراچی(نیوز ڈیسک)شہر قائد کے علاقے قائدآباد میں بجلی کی طویل بندش کے خلاف شہریوں کا احتجاج 14 گھنٹے بعد بھی جاری ہے جس کے باعث نیشنل ہائی وے پر بدترین ٹریفک جام پیدا ہو گیا۔
احتجاج کے باعث قومی شاہراہ پر قائدآباد سے ملیر ہالٹ تک گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئی ہیں جبکہ ہیوی ٹریفک بھی روڈ پر پھنس گئی ہے، دھرنے اور سڑک کی بندش کے باعث شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے بالخصوص عید قربان کے لیے جانور خرید کر واپس جانے والے شہری بھی ٹریفک میں پھنس گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق مظاہرین اور پولیس افسران کے درمیان مذاکرات کی متعدد کوششیں ناکام ہو چکی ہیں اور شہریوں کا غصہ برقرار ہے۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ علاقے میں گزشتہ کئی دنوں سے غیر اعلانیہ طویل لوڈشیڈنگ جاری ہے جس کے خلاف آواز بلند کرنا ان کا حق ہے، بجلی کی مکمل بحالی تک احتجاج ختم نہیں کیا جائے گا۔
دوسری جانب ٹریفک پولیس نے متبادل راستے اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے تاہم نیشنل ہائی وے پر ٹریفک کی روانی بحال نہ ہو سکی، صورتحال کے پیش نظر مزید سکیورٹی اہلکاروں کو علاقے میں تعینات کر دیا گیا ہے۔
پنجاب میں غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کی ریگولرائزیشن کا فیصلہ
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔