اسمبلی قبل از وقت تحلیل کرنے کی خبریں بے بنیاد ہیں، امجد حسین ایڈووکیٹ
اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT
پیپلزپارٹی کے صوبائی صدر نے کہا کہ وفاقی سطح کی کمیٹی میں اسمبلی کی مدت کے حوالے سے کوئی مشاورت نہیں ہوئی ہے۔ گلگت بلتستان کے دیگر مسائل سے متعلق اس اجلاس میں تفصیلی گفت و شنید ہوئی ہے جس کے ثمرات گلگت بلتستان کے عوام تک پہنچیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے صوبائی صدر و رُکن گلگت بلتستان اسمبلی امجد حُسین ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ وفاقی سطح کی کمیٹی اجلاس میں قبل از وقت اسمبلی تحلیل کرنے کے حوالے سے وزیر اعظم کو سفارشات بھیجنے سے متعلق سوشل میڈیا میں چلنے والی خبر بے بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی سطح کی کمیٹی میں اسمبلی کی مدت کے حوالے سے کوئی مشاورت نہیں ہوئی ہے۔ گلگت بلتستان کے دیگر مسائل سے متعلق اس اجلاس میں تفصیلی گفت و شنید ہوئی ہے جس کے ثمرات گلگت بلتستان کے عوام تک پہنچیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: گلگت بلتستان کے ہوئی ہے
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔