عزاداری کوآرڈینیشن کمیٹی ضلع ملیر کے وفد کی رکن سندھ اسمبلی محمد سلیم بلوچ سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT
دورانِ ملاقات سلیم بلوچ نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ یونین کونسل 3 میں جاری ترقیاتی منصوبہ جات جو کہ (عزاداری کوآرڈینیشن کمیٹی ضلع ملیر) کی مشاورت کے بعد شروع کئے جارہے ہیں میں باہمی ہم آہنگی کیلئے پیپلز پارٹی کی مقامی تنظیم کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ کا قیام بھی عمل میں آجائے۔ اسلام ٹائمز۔ عزاداری کوآرڈینیشن کمیٹی ضلع ملیر کے وفد کی اسپیشل اسسٹنٹ ٹو وزیراعلیٰ سندھ رکن سندھ اسمبلی محمد سلیم بلوچ سے یونین کونسل 3 جعفرطیار میں جاری ترقیاتی منصوبہ جات خصوصاً ممبر عزاداری کوآرڈینیشن کمیٹی ضلع ملیر و مینیجنگ ٹرسٹی غازی عباس ٹرسٹ سید ثمر عباس رضوی کی رہائش گاہ پر گذشتہ دونوں معززین جعفرطیار سوسائٹی سے ان کی ہونی والی ملاقات اور اس موقع پر پیش کردہ میٹھے پانی کے عدم فراہمی کے دیرینہ مسئلے، سرکاری اسکول کی کالج لیول پر اپگریڈیشن، سوسائٹی آفس کی بحالی اور بجلی کی غیر اعلانیہ اور ظالمانہ لوڈشیڈنگ جیسے اہم مسائل پر پیش رفت اور اقدامات کا جائزہ لینے کیلئے ان کے دفتر میں اہم ملاقات کی گئی۔
اس موقع پر عزاداری کوآرڈینیشن کمیٹی ضلع ملیر کے وفد میں رکن کمیٹی سید ثمر عباس رضوی مینیجنگ ٹرسٹی غازی عباس ٹرسٹ، صدر مجلس وحدت مسلمین ضلع ملیر سید احسن عباس رضوی، صدر مرکزی تنظیم عزا حلقہ ملیر سید محمد صادق، کوآرڈینیٹر مرکزی تنظیم عزاداری شاہ عالم زیدی، کوآرڈینیٹر جعفریہ الائنس ضلع ملیر سید ثمر عباس زیدی ایڈوکیٹ، رہنما آئی ایس او جعفرطیار مرتضیٰ عباس، ایم ڈبلیو ایم کے رہنما سید عارف رضا، سید قیصر عباس زیدی، سید حسین رضوی، سید اسد علی زیدی، مرکزی تنظیم عزا کے رہنما ادیب عباس، صفدر امام، عابد رضا الحسینی، آغا بہجت ویلفیئر ٹرسٹ کے سید رئیس عباس، غازی عباس ٹرسٹ کے اختیار امام رضوی، مرتضیٰ عابدی، ظفر احسن نقوی، وائس چیئرمین یوسی 3 سید رضا حسین، مرکزی تنظیم عزاداری کے رکن اظہار زیدی، عدنان زیدی، علی عباس، تفضُّل عباس و دیگر شامل تھے۔
اس موقع پر بیان کردہ مسائل پر ممبر سندھ اسمبلی سلیم بلوچ نے فوری متعلقہ حکام سے رابطہ کرکے مسائل کے حل کی ہدایات جاری کیں ساتھ ہی گذشتہ دنوں اعلان کردہ اپنے پروجیکٹس پر پیش رفت سے آگاہ بھی کیا، سلیم بلوچ نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ یونین کونسل 3 میں جاری ترقیاتی منصوبہ جات جو کہ (عزاداری کوآرڈینیشن کمیٹی ضلع ملیر) کی مشاورت کے بعد شروع کئے جارہے ہیں میں باہمی ہم آہنگی کیلئے پیپلز پارٹی کی مقامی تنظیم کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ کا قیام بھی عمل میں آجائے۔ اس سلسلے میں پی پی پی کی رکن کراچی میونسپل کاپوریشن تسلیم شبیر، پی پی پی یونین کونسل 3 جعفر طیار کے رہنما علیم احمد، جاسم روحانی، شبیر احمد، محمد اسلم ہاشمیان، وجاہت متقی، محمد عباس (محمد میاں)، علی کاشان و دیگر بھی موجود تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: یونین کونسل 3 سلیم بلوچ
پڑھیں:
طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان حکام نے خواتین اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن کے دفتر پر چھاپہ مار کر تنظیم کے 6 ملازمین کو حراست میں لے لیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، کارروائی کے دوران طالبان اہلکاروں نے تنظیم کے کمپیوٹرز، دستاویزات اور دیگر دفتری سامان بھی قبضے میں لے لیا۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان: طالبان حکومت کا ایک اور متنازع فیصلہ، خواتین کو صحت کی تعلیم سے روکنے کا حکم
تاہم اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ گرفتار کیے گئے ملازمین کو کہاں منتقل کیا گیا ہے اور ان کی موجودہ حالت کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں 2 افراد تنظیم کی سربراہ زرقا یفتلی کے قریبی رشتہ دار ہیں، جو اس وقت افغانستان سے باہر مقیم ہیں۔
Sources in Kabul told Afghanistan International on Wednesday that Taliban agents raided the office of the Women and Children Legal Research Foundation (WCLRF) earlier this week and detained six staff members.https://t.co/ly2WtJb202 pic.twitter.com/fQ8qbUdHiN
— Afghanistan International English (@AFIntl_En) July 23, 2026
زرقا یفتلی خواتین کے حقوق کی معروف کارکن ہیں اور گزشتہ سال انہیں متحدہ عرب امارات کی جانب سے 2026 زاید ایوارڈ فار ہیومن فریٹرنٹی سے نوازا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق زیرِ حراست افراد کے اہلِ خانہ نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے عزیزوں کی حراست کی جگہ، قانونی حیثیت اور صحت کے بارے میں فوری طور پر آگاہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں: کرکٹ اسٹارز سے ملاقاتوں اور لباس کے معاملے پر طالبان رہنماؤں میں اختلافات بڑھ گئے
ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن تعلیم، خواتین اور بچوں کے حقوق کی وکالت، تحقیقی سرگرمیوں اور تحقیقاتی رپورٹس کی تیاری کے شعبوں میں کام کرتی رہی ہے۔
طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں سول سوسائٹی کی متعدد تنظیموں، خصوصاً خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں، پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
اس عرصے کے دوران کئی سماجی کارکنوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ متعدد تنظیمیں اپنی سرگرمیاں محدود کرنے یا مکمل طور پر بند کرنے پر مجبور ہو چکی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان سول سوسائٹی طالبان فلاحی تنظیم کابل کمپیوٹرز متحدہ عرب امارات ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن