اگلے مالی سال میں ایک ہزار ارب کے ترقیاتی پروگرام میں بلوچستان کا حصہ 250 ارب ہوگا، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT
کوئٹہ (ڈیلی پاکستان آن لائن )وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اگلے مالی سال میں ایک ہزار ارب کے ترقیاتی پروگرام میں بلوچستان کا حصہ 250 ارب روپے ہوگا۔
ڈان نیوز کے مطابق کوئٹہ میں بلوچستان گرینڈ جرگے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ میں آپ سب کا شکرگزار ہوں کہ مجھے یہاں شرکت کا موقع ملا اور آپ سب کی تشریف آوری کا بھی ممنون ہوں۔انہوں نے کہا کہ 6 اور 7 مئی کو ہندوستان نے جو پاکستان پر حملہ کیا تھا، افواج پاکستان کی بہترین کارکردگی اور دلیری کے باعث دشمن کو وہ شکست دی جو وہ عمر بھر یاد رکھے گا، اس حوالے سے میں بلوچستان کے بھائیوں اور بہنوں جبکہ دیگر صوبوں کے بھائیوں اور بہنوں کا ممنون ہوں جو افواج پاکستان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہوگئے۔
شہباز شریف نے کہا کہ بطور وزیراعظم میں اس عرصے میں تمام واقعات کا عینی شاہد ہوں میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس مختصر ترین جنگ میں جو انتہائی خطرناک تھی، اس حوالے سے سپہ سالار فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی دلیرانہ اور انتہائی منظم قیادت کے تحت افواج پاکستان نے یہ جنگ جیت کر نہ صرف آپ کا سر فخر سے بلند کیا بلکہ 1971 کا بدلہ لیا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان جب ایٹمی قوت بنا تو دنیا نے دیکھا پاکستان نے ہندوستان کے 5 دھماکوں کے بدلے میں 6 دھماکے کرکے ان کے اوسان خطا کئے اور وہ عزت اللہ نے نواز شریف کو دی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان بننے کے بعد کوئٹہ میں آپ کے بڑے اکٹھے ہوئے اور انہوں نے قائداعظم کی قیادت کو تسلیم کیا اور بلوچستان کو پاکستان کاحصہ بنانے کا اعلان کیا، میں نے ایک مرتبہ نہیں، کئی مرتبہ بڑے بھائی کے آواز کے ساتھ آواز ملاکر یہ کہا کہ بلوچستان پاکستان کا خوبصورت صوبہ ہے جہاں کے لوگ دلیر لوگ ہیں لیکن کیا وہ وجہ ہے جس کی وجہ سے کوئی شکوہ ہے تو وہ بھائی بن کر بیٹھ کر طے کرنا چاہئے۔
شہباز شریف نے کہا کہ دہشت گرد خون کے پیاسے ہیں، جو اغیار کے ایجنٹ ہیں اور پاکستان کی ترقی اور خوشحالی ان کو نہیں بھاتی، ان کا راستہ اور ان کے ہتھکنڈوں کو آپ کو ناکام بنانا ہے، اس حوالے سے کیا وہ نقائص ہیں جو آپ کے مشورے سے ہم دور کرسکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ این ایف سی ایوارڈ میں پنجاب نے اپنا حصہ بلوچستان میں ڈالا، بلوچستان کی ڈیمانڈ تھی کہ این ایف سی میں 100 فیصد اضافہ کیا جائے، 11 ارب روپے اس وقت پنجاب نے اپنے حصے سے بلوچستان کے این ایف سی میں ڈالے تب جاکر 2010 میں این ایف سی سائن ہوا۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے زمانے میں بلوچستان میں بے پناہ ترقی ہوئی، ایک ہزار ارب ترقیاتی بجٹ میں سے 250 ارب روپے صرف بلوچستان کے لئے ہیں، کوشش ہونی چاہئے کہ ترقیاتی پروگرام کے یہ فنڈ شفافیت کے ساتھ خرچ ہوں گے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چند ماہ پہلے دنیا بھر میں تیل کی قیمتیں گریں اور 10 روپے کا فائدہ پٹرول اورڈیزل کی قیمت میں ہو ا جو ڈیڑھ ارب روپے بنتا تھا، جو ہم نے خونی شاہراہ کے نام سے مشہور این-25 کی اپ گریڈیشن کے لئے مختص کردیے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا وسیع علاقہ سرمایہ کاری کے حجم میں اضافے کا متقاضی ہے، جغرافیائی آپ کے فاصلے اتنے ہیں کہ ان کے اوپر اربوں کھربوں بھی لگائے جائیں تو وہ فاصلے سمٹ نہیں سکتے۔
چینی وزیر خارجہ کی اسحاق ڈار سے ملاقات، پاکستان کیساتھ مل کر چلنے کا اعادہ
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ کا کہنا تھا کہ میں بلوچستان شہباز شریف ایف سی ارب روپے
پڑھیں:
موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
اسلام آباد: موبائل انٹرنیٹ پیکجز مہنگے ہونے سے ملک بھر کے لاکھوں موبائل صارفین کو اضافی اخراجات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے جاری کردہ تازہ تفصیلات کے مطابق مختلف موبائل کمپنیوں کے متعدد کال، ہائبرڈ اور ڈیٹا پیکجز کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔
پی ٹی اے کے مطابق مختلف موبائل آپریٹرز کے 15 مقبول ہائبرڈ اور ڈیٹا اونلی پیکجز کی قیمتوں میں 33 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد صارفین کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ رقم ادا کرنا ہوگی۔
جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ماہانہ کال اور ڈیٹا پیکجز کی قیمتوں میں 500 روپے تک اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ 15 روزہ پیکجز اب 300 روپے تک مہنگے ہو گئے ہیں۔
اسی طرح ہفتہ وار ہائبرڈ پیکجز کی قیمت میں 130 روپے تک اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ تین روزہ پیکجز 21 روپے، دو روزہ پیکجز 20 روپے اور ایک روزہ ہائبرڈ پیکجز 5 روپے تک مہنگے کر دیے گئے ہیں۔
پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ صارفین کی سہولت کے لیے تمام نئی ٹیرف تفصیلات ادارے کی ویب سائٹ پر جاری کر دی گئی ہیں، جہاں مختلف موبائل کمپنیوں کے کال اور انٹرنیٹ پیکجز، ان کی مدت، قیمت اور دستیاب سہولیات کا بآسانی موازنہ کیا جا سکتا ہے۔
اتھارٹی کے مطابق اس اقدام کا مقصد ٹیلی کام شعبے میں شفافیت کو فروغ دینا اور صارفین کو مختلف موبائل کمپنیوں کے پیکجز سے متعلق درست اور مکمل معلومات فراہم کرنا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موبائل اور انٹرنیٹ خدمات کی قیمتوں میں اضافے سے طلبہ، فری لانسرز، آن لائن کاروبار کرنے والے افراد اور روزمرہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین کے ماہانہ اخراجات میں مزید اضافہ ہوگا۔