خبردار! پراٹھا پکاتے ہوئے یہ غلطی نہ کریں، صحت کو بڑا نقصان پہنچ سکتا ہے
اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)نسلوں سے دیسی کچن میں صبح کا آغاز گھی میں پکے ہوئے پراٹھے کی خوشبو سے ہوتا آیا ہے۔ توا پر سنہری رنگ میں دھیرے دھیرے پکتا پراٹھا نہ صرف آنکھوں کو بھاتا ہے، بلکہ اس کی خوشبو دل کو بھی بہلا دیتی ہے۔ دیسی گھی سے لبریز پرانٹھا کئی گھرانوں کے لیے ناشتہ کا معیار سمجھا جاتا ہے۔
لیکن جیسے جیسے خوراک سے متعلق سائنسی شعور بڑھا ہے، ویسے ویسے یہ سوال ابھرنے لگاہے کہ کیا ہم واقعی اپنی صحت کے لیے وہی کھا رہے ہیں جو ہمارے آبا و اجداد کھایا کرتے تھےاور کیا ہم وہی طریقہ اختیار کر رہے ہیں جو آج کے دور میں محفوظ ہے؟
کیا گھی میں پراٹھا پکانا نقصان دہ ہے؟
جی ہاں، اگر غلط طریقے سے پکایا جائے اور اگر مقدار کا خیال نہ رکھا جائے۔
گھی، بلاشبہ، ایک روایتی اور غذائیت سے بھرپور چکنائی ہے۔ اس میں موجود وٹامنز اے ڈی ای اور کے بیوٹریٹ جیسا فیٹی ایسڈ، ہاضمے، آنتوں کی صحت اور سوزش میں کمی کے لیے مفید ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صدیوں سے دیسی گھی ہمارے کھانوں کا حصہ رہا ہے۔
لیکن اس کے اندر ایک پوشیدہ خطرہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ ماہرین اس کے استعمال میں احتیاط کا مشورہ دیتے ہیں۔
ماہر غذائیت ایک اہم نکتہ بیان کرتے ہیں کہ
”جب گھی کو اس کے دھواں نکالنے والے درجہ حرارت (تقریباً 250°C) سے اوپر گرم کیا جاتا ہے، تو وہ اپنی اصل ساخت کھو بیٹھتا ہے۔“
ایسی حالت میں گھی سے خطرناک مرکبات جیسے ایکرولین، ٹرانس فیٹس جیسے آئسومرزخارج ہوتے ہیں، جن کا ہاضمہ انسانی جسم کے لیے مشکل ہو جاتا ہے۔
طویل عرصے تک اس طرح کے گھی میں پکا ہوا کھانا کھانے سے دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، چاہے باقی اجزاء کتنے ہی صحت بخش کیوں نہ ہوں۔
زیادہ درجہ حرارت کے دیگر نقصانات
جب گھی میں پراٹھا تیز آنچ پر پکایا جاتا ہے، تو نہ صرف گھی کے مفید وٹامنز تباہ ہو جاتے ہیں، بلکہ گندم جیسے کاربوہائیڈریٹ سے ”ایڈوانسڈ گلائی کیشن اینڈ پروڈکٹس“ (AGEs) پیدا ہوتے ہیں۔
یہ مالیکیولز آکسیڈیٹیو اسٹریس، جلدی بڑھاپے، دائمی سوزش اور انسولین کی مزاحمت (جو آگے چل کر ذیابطیس کی وجہ بن سکتی ہے) سےمنسلک ہوتے ہیں
پراٹھا کھائیں لیکن احتیاط سے
درمیانی آنچ پر پراٹھا پکائیں تاکہ گھی کا درجہ حرارت دھوئیں تک نہ پہنچے۔
ہیوی باٹم پین استعمال کریں تاکہ گرمی یکساں پھیلے۔
نان اسٹک برتن اور کم گھی کا استعمال کریں۔
اگر گھی استعمال کرنا بھی ہو تو محدود مقدار میں اور کم درجہ حرارت پر کریں۔
پراٹھا اور گھی، دیسی کچن کا روایتی جوڑ، اب بھی ہماری پلیٹ میں شامل رہ سکتا ہے بس طریقہ شعور کے ساتھ بدلنے کی ضرورت ہے۔
یار رکھیں پراٹھے کو لذت بھرا ناشتا بنائیں، نہ کہ زہریلا خطرہ۔ خیال رکھیں! اپنے کھانے کا، اپنی صحت کا اور سب سے بڑھ کر درجہ حرارت کا۔
مزیدپڑھیں:وکیل کی نامناسب حالت میں پیشی پر عدالت حیران، جج شدید برہم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: گھی میں جاتا ہے کے لیے
پڑھیں:
پی ٹی اے کی موبائل سمز سے متعلق اہم وارننگ
ویب ڈیسک: پی ٹی اے نے ملک بھر کے موبائل فون صارفین کے لیے ایک اہم اور تنبیہی پیغام جاری کیا ہے جس میں اپنی نام پر رجسٹرڈ سمز کے غیر ذمہ دارانہ استعمال سے خبردار کیا گیا ہے۔
پی ٹی اے نے واضح کیا ہے کہ اپنی شناخت پر جاری شدہ سم کسی دوسرے شخص کے حوالے کرنا قانوناً جرم ہے کیونکہ آپ کے نام پر موجود سم کسی بھی غیر قانونی یا مجرمانہ کارروائی میں استعمال ہو سکتی ہے۔
صارفین کی سہولت اور حفاظت کے لیے پی ٹی اے نے ہدایت کی ہے کہ شہری یہ چیک کریں کہ ان کے قومی شناختی کارڈ پر کتنی سمیں فعال ہیں،اس معلومات کیلئے صارفین cnic.sims.pk ویب سائٹ وزٹ کر سکتے ہیں یا اپنا شناختی کارڈ نمبر بغیر کسی ڈیش (-) کے 668 پر ایس ایم ایس کر کے تفصیلات حاصل کر سکتے ہیں۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اگر شناختی کارڈ پر کوئی نامعلوم یا بلا ضرورت سم نظر آئے تو اسے فوری طور پر بلاک کروانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
محفوظ خریداری اور بائیو میٹرک کا احتیاطی استعمال
پی ٹی اے حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ نئی سم کی خریداری کے لیے ہمیشہ صرف مستند فرنچائز یا آفیشل کسٹمر سروس سینٹر کا ہی انتخاب کریں اور اس بات کی مکمل تصدیق کریں کہ آپ کی اجازت یا علم کے بغیر کوئی بھی سم رجسٹر نہ کی جا رہی ہو۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
اس سے قبل بھی پی ٹی اے کی جانب سے شہریوں کو خبردار کیا جا چکا ہے کہ مفت سم کا لالچ دے کر بائیو میٹرک تصدیق کروانے والے افراد سے ہوشیار رہیں۔
ایسے دھوکے باز آپ کی بائیو میٹرک کا غلط استعمال کر کے آپ کی معلومات پر کوئی اور سم بھی جاری کروا سکتے ہیں، جس کا خمیازہ بعد میں اصل صارف کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔