بلوچستان اسمبلی دہشتگردی کیخلاف یک زبان، دہشتگردوں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کا عزم WhatsAppFacebookTwitter 0 31 May, 2025 سب نیوز

کوئٹہ(سب نیوز )بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن دہشتگردی کے خلاف یک زبان ہو گئے، ارکانِ اسمبلی نے سوراب حملے کی شدید مذمت کی اور دہشت گروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا عزم کا اظہار کیا، صوبائی وزیر ظہور بلیدی نے کہا سوراب میں سرکاری املاک کو شدید نقصان پہنچایا گیا، دہشتگردوں کو کسی مذہب اور قبیلے سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی انسان کہلانے کے قابل ہیں۔ اپوزیشن لیڈر یونس عزیز زہری و دیگر نے کہا کہ دہشتگردوں ہمارے معصوم لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، عوام دہشتگروں کے خلاف حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کو کیفر کردار تک پہنچائے گے۔

بلوچستان اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکرغزالہ گولہ کی صدارت میں منعقد ہوا.

دوران اجلاس صوبائی وزیر پی اینڈ آی ظہور بلیدی نے پوائنٹ آف آڈر پر کہا کہ سانحہ سوراب می بلوچستان میں ایک اور قابل افسر ہدایت اللہ بلیدی کو شہدا اور سرکاری املاک کو شدید نقصان پہنچایا گیا جبکہ نجی بینک کو دہشتگردوں کی جانب لوٹا گیا جو ایک قابل افسوس عمل ہیں۔انھوں نے کہا کہ ہم نے صوبے میں ہمیشہ دہشتگردی کی مخالفت کی ہے اور کرتے رہیں گے۔ دہشتگردوں کا کسی مذہب اور قبیلے سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی انسان کہلانے کے قابل ہیں۔

اپوزیشن لیڈر یونس عزیز زہری، زابد علی ریکی، رحمت صالح بلوچ، مولانا ہدایات الرحمان اور دیگر نے بھی واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگروں ہمارے معصوموں کو نشانہ بنا رہے ہیں، عوام دہشتگروں کے خلاف حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔ایوان میں سانحہ سوراب شہد ہونے والوں کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔

ایوان میں اپوزیشن لیڈر یونس عزیز زہری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی میں اپوزیشن کے سوالات کے جوابات نہیں دیئے جاتے ہیں، سیکرٹریز خطوط کے جوابات نہیں دیتے ہیں اگر سیکرٹریز سوالات کا جواب نہیں دیتے ہیں ہم انہیں آئندہ پوچھیں گے بھی نہیں۔اسپیکر نے رولنگ دیتے ہوئے کہاکہ سیکرٹریز سوالات کے جوابات دینے کے پابند ہیں، رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان کا کہنا تھا بلوچستنان کے کس محکمے میں کیا ہو رہا ہے سب کو معلوم ہے وزیراعلی کسی بلیک میلنگ میں مت آئیں، اپوزیشن بھی کسی کی بلیک میلنگ میں نہیں آئے گی۔ احتجاج کرنا ہمارا حق ہے۔

اجلاس میں رکن اسمبلی زریں مگسی نے اسپیشل آڈٹ رپورٹ بر اکانٹس آف بولان میڈیکل کمپلیکس اسپتال کوئٹہ کا سال2017-18،2021-22آڈٹ سال2022-23ایوان میں پیش کیا۔ایوان میں صوبائی وزیر صحت نے بلوچستان ہیلتھ اصلاحات کا مسودہ قانون 2025 پیش کیا۔ جسے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا۔اسمبلی میں وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے بلوچستان انسٹیٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیو لر ڈیزیز کا مسودہ قانون 2025 پیش کیا، ایوان نے قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا۔

اس کے علاوہ وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نیانسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ سروسز کا مسودہ قانون 2025 بھی پیش کیا جسے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کیا گیا۔ایوان میں بلوچستان مٹرنل اینڈ پیرینیٹل ڈیت سرویلنس اینڈ رسپانس کا مسودہ قانون 2025 پیش کیا گیا، مسودہ قانون 2025 قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا۔اجلاس کے دوران کمپیلیکس آڈٹ رپورٹ متعلقہ کمیٹی کے حوالے کر دی گئی جس کے بعد اسپیکر نے اسمبلی کا اجلاس 3 جون تک ملتوی کر دیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرکرپشن، بدانتظامی، امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر جے یو آئی کا عوامی مہم چلانے کا اعلان کرپشن، بدانتظامی، امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر جے یو آئی کا عوامی مہم چلانے کا اعلان اسلام آباد پولیس نے مویشی منڈیوں کی سکیورٹی کیلئے پلان تشکیل دیدیا معرکہ حق میں ناکامی، ہزیمت چھپانے کیلئے بھارت کا بلوچستان میں پراکسیز کا بے دریغ دوبارہ استعمال اسرائیل نے سعودیہ سمیت 5 عرب وزرائے خارجہ کو مغربی کنارے کے دورے سے روکدیا حماس نے امریکی جنگ بندی کی تجویز پر اپنا جواب جمع کرادیا فرانسیسی صدر یہودی ریاست کیخلاف صلیبی جنگ میں مصروف ہیں: اسرائیلی وزارت خارجہ TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: بلوچستان اسمبلی کردار تک کو کیفر

پڑھیں:

ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟

ایران امریکا مذاکرات میں دُنیا پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی نائب صدر کاجا کالاس نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کی زبردست تعریف کی۔

اس سے قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے دورہ واشنگٹن کے دوران جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی۔

لیکن اِس سب کے باوجود امریکا ایران تنازعے کا پائیدار حل نظر نہیں آ رہا جس کی بُنیادی وجہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اب لبنان میں نہ رُکنے والی جنگی جارحیت ہے، حالاں کہ ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے اس بات کو کھل کر دُہرایا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے۔

گزشتہ 10 روز میں کیا پیش رفت ہوئی؟

مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان متعدد بالواسطہ رابطے اور مذاکرات ہوئے جن کے بنیادی نکات میں جنگ بندی پر عملدرآمد، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ، پابندیوں میں ممکنہ نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو دور کرنا شامل تھا۔

مغربی میڈیا کے مطابق فریقین ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم ایرانی حُکام ایسی خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔ ایرانی حُکام اپنا مؤقف کھل کر بیان کر رہے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے اعلان سے قبل عملی اقدامات اور قابلِ تصدیق ضمانتیں ضروری ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود حتمی پیش رفت کا اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔

لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور ایرانی وزیرِ خارجہ کا بیان

تازہ ترین اور شاید سب سے اہم پیش رفت ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے اس بیان کی صورت میں سامنے آئی جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی کسی بھی جنگ بندی کا اطلاق پورے خطے پر ہوگا۔

عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر کا اطلاق ’تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی‘ سے تعبیر ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی‘۔

پاکستان کی تازہ سفارتکاری کوششیں

گزشتہ 10 روز کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے  تہران کے دورے، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں اور پاکستانی حکام کی مسلسل رابطہ کاری نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک اہم سفارتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔

اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران نے سفارتی حلقوں کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ متعدد مبصرین کے مطابق پاکستان صرف پیغامات منتقل نہیں کر رہا بلکہ اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو برقرار رکھنے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔

واشنگٹن میں اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی ملاقات

پاکستان کی سفارت کاری کی اہمیت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں ایران، امریکا مذاکرات، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اس بات کا اشارہ تھا کہ واشنگٹن اسلام آباد کو ایک مؤثر رابطہ کار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

یورپی یونین کی غیر معمولی تائید

یکم جون 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے 8 ویں پاکستان، یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ نے پاکستان کی سفارتی حیثیت کو مزید تقویت دی۔

اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ  طور پر کی جس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ کاجا کالاس نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششوں کو تعمیری اور بامعنی قرار دیا۔

اعلامیے میں خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد مذاکرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یورپی یونین نے نہ صرف پاکستان کے کردار کو سراہا بلکہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

یہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کی ثالثی کو زیادہ تر علاقائی تناظر میں دیکھا جا رہا تھا، جبکہ اب یورپی یونین بھی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کر رہی ہے۔

’آبنائے ہرمز ‘ مذاکرات کا اصل مرکز

موجودہ بحران میں ’آبنائے ہرمز‘ صرف ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کو توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔اسی لیے ایران، امریکا، یورپی یونین اور پاکستان سب اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز‘ میں کشیدگی کم کرنا اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، سفارتی رابطے بھی جاری ہیں لیکن اختلافی مسائل اب بھی باقی ہیں۔تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ ’ مذاکرات ٹوٹے نہیں بلکہ آگے بڑھے ہیں‘۔

امریکا، ایران، پاکستان اور یورپی یونین سب سفارتی راستے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آنے والے ہفتوں میں کوئی عبوری معاہدہ، توسیع شدہ جنگ بندی یا وسیع علاقائی سلامتی فریم ورک وجود میں آتا ہے تو پاکستان کو صرف ایک سہولت کار نہیں بلکہ اس پورے سفارتی عمل کے اہم معماروں میں شمار کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا ایران پاکستان تہران سفارت کاری کاجا کالاس مذاکرات واشنگٹن یورپی یونین

متعلقہ مضامین

  • امریکی سفارت کاری نہیں، میزائلوں کی زبان سمجھتے ہیں، ایران
  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ‘ بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر کی ملاقات
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟