خیبر پختونخوا پولیس نے دہشتگردی کیخلاف اینٹی ڈرون جیمنگ ٹیکنالوجی متعارف کرا دی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, July 2025 GMT
حکام کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کو دیگر اضلاع میں بھی متعارف کرانے کا منصوبہ ہے، تاکہ صوبے بھر میں ڈرون کے ذریعے ممکنہ خطرات سے مؤثر طور پر نمٹا جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا پولیس نے دہشت گردی کے خلاف جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی جانب ایک اور اہم قدم اٹھاتے ہوئے اینٹی ڈرون جیمنگ ٹیکنالوجی متعارف کرا دی ہے، کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) پشاور قاسم علی خان کے مطابق پولیس نے جدید جیمنگ گن کے ذریعے فضا میں پرواز کرتے مشکوک ڈرونز کو کامیابی سے جام کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جنوبی اضلاع، بالخصوص شمالی وزیرستان، لکی مروت اور ڈیرہ اسماعیل خان جیسے علاقوں میں دہشت گرد گروہوں کی جانب سے ڈرونز کے ذریعے نگرانی اور حملوں کے خدشے کے پیش نظر یہ ٹیکنالوجی وقت کی اہم ضرورت بن چکی تھی۔
یہ جدید جیمنگ ٹیکنالوجی تین کلومیٹر کے دائرے میں کسی بھی مشتبہ ڈرون کو مکمل طور پر ناکارہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ سی سی پی او کے مطابق اس ٹیکنالوجی کے استعمال سے نہ صرف اہم تنصیبات، عوامی اجتماعات اور حساس علاقوں کی سیکیورٹی مزید مضبوط ہوگی بلکہ پولیس کی انسداد دہشت گردی صلاحیت میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔ حکام کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کو دیگر اضلاع میں بھی متعارف کرانے کا منصوبہ ہے، تاکہ صوبے بھر میں ڈرون کے ذریعے ممکنہ خطرات سے مؤثر طور پر نمٹا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے ذریعے
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔