فرانسیسی صدر یہودی ریاست کیخلاف صلیبی جنگ میں مصروف ہیں، اسرائیلی وزارت خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT
اسرائیلی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ حماس پر دباؤ ڈالنے کے بجائے میکرون انہیں فلسطینی ریاست کا انعام دینا چاہتے ہیں اور اسرائیل پر پابندیاں لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل نے فرانسیسی صدر میکرون پر یہودی ریاست کے خلاف صلیبی جنگ جاری رکھنے کا الزام عائد کر دیا۔ اسرائیلی وزارت خارجہ کی جانب سے ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ فرانسیسی صدر میکرون کی یہودی ریاست کے خلاف صلیبی جنگ جاری ہے، صدر میکرون کو حقائق سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اسرائیلی وزارت خارجہ نے دعویٰ کیا کہ غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی کی، ناکہ بندی نہیں ہے اور امداد پہنچانے کے لیے اسرائیل سہولت فراہم کر رہا ہے۔ اسرائیلی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ حماس پر دباؤ ڈالنے کے بجائے میکرون انہیں فلسطینی ریاست کا انعام دینا چاہتے ہیں اور اسرائیل پر پابندیاں لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ ہم فلسطین کے مغربی کنارے میں یہودی اسرائیلی ریاست قائم کریں گے، صدر میکرون اور ان کے ساتھیوں کے لیے ہمارا واضح پیغام ہے کہ وہ فلسطین کو کاغذ کے ٹکڑے پر تسلیم کریں گے اور ہم یہاں زمین پر اسرائیلی ریاست قائم کریں گے۔ خیال رہے کہ گذشتہ روز فرانسیسی صدر میکرون نے کہا تھا کہ وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے حمایت کرسکتے ہیں اور غزہ میں انسانی امدادی صورت حال بہتر نہ ہوئی تو فرانس اسرائیلی آبادکاروں پر پابندیاں عائد کرسکتا ہے۔ فرانسیسی صدر کا کہنا تھا کہ اگر ہم غزہ کو مکمل طور پر اسرائیلی رحم و کرم پر چھوڑ دیں تو ہم اپنی ساکھ کھو دیں گے۔ میکرون نے فلسطینیوں کو جبری طور پر بے گھر کرنے کے اسرائیلی منصوبے کی سختی سے مذمت کی اور کہا کہ فلسطینی ریاست کو شرائط کے ساتھ تسلیم کرنا ایک اخلاقی فرض ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسرائیلی وزارت خارجہ فلسطینی ریاست صدر میکرون تھا کہ
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔