دنیا کے امیر ترین افراد ایک عمارت میں سونا کیوں جمع کر رہے ہیں؟ مالیت بھی سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT
SINGAPORE:
کیا آپ جانتے ہیں ان دنوں دنیا کے امیر ترین افراد اپنا سونا سنگاپور کی ایک عمارت میں جمع کر رہے ہیں۔
انٹرنیشنل میڈیا کی رپورٹ کے مطابق دنیا کے امیر ترین افراد بین الاقوامی سطح پر پائی جانے والی غیریقینی، بینکوں پر کم ہوتا اعتماد اور جغرافیائی کشیدگی کے باعث اپنا سونا بینکوں کے لاکرز کے بجائے بیرون ملک محفوظ وولیٹس میں رکھ رہے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا کے امیر ترین افراد کے اس رجحان کا سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والا ملک سنگاپور ہے جو دنیا بھر کے دولت مند افراد کے لیے مشرق کا جنیوا بن رہا ہے۔
سی این بی سی کی رپورٹ کے مطابق سنگاپور ایئرپورٹ کے قریب واقع 6 منزلہ نجی عمارت میں اس وقت 1.
سنگاپور میں اس عمارت کو محفوظ بنانے کے لیے سیکیورٹی سخت اقدامات کیے گئے ہیں اور اس عمارت کو اونیکس، ہزاروں ڈپازٹ بکسز اور ایک وسیع اسٹوریج چیمبر کو لیس کر دیا گیا ہے۔
بانی گریگور گریگرسین کے مطابق گولڈ اور سلور اسٹوریج کے آرڈرز میں جنوری اور اپریل 2025 کے دوران 88 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ گولڈ، سلور بار کی فروخت سال بہ سال 200 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ میں اس سوال سونا محفوظ کرنے کا یہ رجحان کیوں بڑھ رہا ہے کا جواب دیا گیا ہے کہ لبنان، الجیریا اور مصر جیسے دنیا کے کئی ممالک کے دولت مند افراد اپنے ملکوں میں بینکنگ کے نظام پر اعتماد کھو رہے ہیں۔
گریگرسن نے بتایا کہ یہ لوگ سمجھتے ہیں سونے کی شکل میں دولت زیادہ محفوظ ہے بجائے سونے کی قیمت کی کاغذی کرنسی (ای ٹی ایف، میوچل فنڈز) اور یہ اس میں رسک بھی کم ہے یا تھرڈ پارٹی سے ڈیفالٹ کا رسک بھی کم ہے۔
رپورٹ کے مطابق امیر ترین افراد کو 2023 کے سلیکون ویلی بینک بحران کے بعد خوف کا شکار ہیں اور اسی لیے وہ پیپر کرنسی پر اپنی دولت رکھنے کے بجائے سونے کو ایک مخصوص مقام پر محفوظ کیا جائے۔
سنگار پور کو یہ دولت مند افراد سونا محفوظ بنانے کے لیے کیوں منتخب کر رہے ہیں تو اس کا جواب یہی ہے کہ مذکورہ افراد سنگاپور کو زیادی محفوظ ملک سمجھتے ہیں جیسا کہ کسی زمانے میں سوئٹزرلینڈ کو تصور کیا جاتا تھا۔
اسی طرح سنگاپور ٹرانزٹ کا مرکز بھی ہے جہاں سونے کی درآمد اور برآمد آسانی ہوتی ہے۔
ورلڈ گولڈ کونسل کے جان ریڈ نے نشان دہی کی کہ اب چند سرمایہ کار بینکوں سے باہر سونے کو محفوظ کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ بینکوں کو نظام اب مکمل طور پر محفوظ نظام نہیں رہا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: دنیا کے امیر ترین افراد کے مطابق رپورٹ کے رہے ہیں
پڑھیں:
بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
بلوچستان میں حالیہ دہشتگرد حملوں اور ایک جج کے قتل کے تناظر میں کالعدم بی ایل اے اور داعش کے پی کے درمیان مبینہ روابط کے حوالے سے نئے دعوے سامنے آئے ہیں۔
عوام کی جانب سے بی ایل اے کو اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں شہریوں اور عوامی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے حملوں میں بی ایل اے ملوث رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف پاکستان کی کامیاب کارروائیاں، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے مشترکہ پناہ گاہ ڈھونڈنے پر مجبور
اس کے نتیجے میں بے گناہ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال متاثر ہو رہی ہے۔
عوامی انفراسٹرکچر پر حملوں سے شہری متاثرواضح رہے کہ عوامی انفراسٹرکچر، خصوصاً پلوں اور سڑکوں کو نشانہ بنانے سے آمدورفت، کاروباری سرگرمیوں، ہنگامی امدادی خدمات اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
اس کا سب سے زیادہ نقصان بلوچستان کے عام شہریوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے، جنہیں بنیادی سہولیات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
جج کے قتل کو عدلیہ پر حملہ قرار دیا گیاعوامی حلقوں میں بلوچستان میں مستونگ کے علاقے میں جج کے قتل کو عدلیہ اور نظامِ انصاف پر براہِ راست حملہ قرار دیا جا رہا ہے جو کہ کالعدم بی ایل اے نے کیا جبکہ اس کی ذمہ داری داعش کے پی نے قبول کی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر سینیئر صحافی اس صورتحال کو دونوں تنظیموں کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
اقوامِ متحدہ سے کارروائی کا مطالبہواضح رہے کہ کالعدم داعش کے پی پہلے ہی اقوامِ متحدہ کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قرار دی جا چکی ہے، جبکہ کالعدم بی ایل اے اب تک اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔
مزید پڑھیں:ماہرنگ لانگو کے والد کی قبر پر کالعدم بی ایل اے کا پرچم لہرانے کی ویڈیو وائرل، اصل چہرہ بے نقاب
اسی بنیاد پر مطالبہ کیا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کالعدم بی ایل اے کی سرگرمیوں کا جائزہ لے کر اسے فوری دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔
ادھر خیبر پختونخوا سے سینیئر صحافی حسن خان نے ایکس پر لکھا ہے کہ ’بلوچستان کے ضلع مستونگ کے قریب سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کے قتل کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم آئی ایس کے پی (داعش خراسان) نے قبول کر لی ہے۔
ISKP has claimed responsibility for the targeted killing of Sessions Judge Abdul Hakeem Kakar and his gunman while they were on their way to Mastung early on Thursday. Another judge was injured in the attack, according to officials.
This ISKP claim raises questions about a…
— Hassan khan (@hasankhyber) July 23, 2026
حملے میں ایک اور جج بھی زخمی ہوئے، جبکہ واقعے کے بعد سیکیورٹی اور تحقیقاتی اداروں نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔
سرکاری حکام کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ جمعرات کی صبح مستونگ جا رہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں جج اور ان کا گن مین جاں بحق ہو گئے، جبکہ ایک اور جج زخمی ہوئے۔
آئی ایس کے پی کے دعوے کے بعد نئے سوالاتحملے کے چند گھنٹوں بعد آئی ایس کے پی نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کر لی، جس کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے بی ایل اے اور آئی ایس کے پی کے درمیان مبینہ روابط پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:لاپتا افراد کی آڑ میں کئی نوجوان دہشتگردی میں ملوث، بی ایل اے کا مکرو چہرہ بے نقاب
کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حملے کا طریقۂ کار ماضی میں بلوچستان میں ہونے والے بعض حملوں سے مماثلت رکھتا ہے، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس حملے میں کسی دوسری تنظیم کا کردار تھا یا دونوں گروہوں کے درمیان عملی تعاون موجود ہے۔
عدلیہ کو نشانہ بنانے کے محرکات کی تحقیقات جاریبعض مبصرین کے مطابق یہ حملہ عدلیہ کو خوفزدہ کرنے یا دباؤ میں لانے کی کوشش ہو سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب حالیہ دنوں میں بلوچ یکجہتی کونسل کی مرکزی رکن ماہ رنگ لانگو کے خلاف عدالتی فیصلہ سامنے آیا ہے۔
تحقیقاتی ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ حملہ آوروں کی شناخت اور ممکنہ سہولت کاروں کا تعین کیا جا سکے۔
ایک روز قبل مسافر بس پر حملہیہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایک روز قبل بلوچستان میں مسافر بس پر حملے میں 5 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ سرکاری حکام نے اس حملے کا الزام بی ایل اے پر عائد کیا تھا۔
حکام کے مطابق مسلح افراد نے بس کو رکنے کا اشارہ کیا اور ڈرائیور کے گاڑی بھگانے پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 5 مسافر جان کی بازی ہار گئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ بی ایل اے پابندی خراسان داعش فہرست کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی ماہ رنگ لانگو مطالبہ