چائلڈ میریج بل شیری رحمان اور شرمیلا فاروقی کا قابل ستائش اقدام ہے، سعدیہ دانش
اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT
ڈپٹی سپیکر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ یہ بل نہ صرف کم عمری کی شادیوں کی روک تھام بلکہ بچیوں کی تعلیم، صحت اور ان کے محفوظ مستقبل کا بھی ضامن ہو گا۔ اسلام ٹائمز۔ ڈپٹی اسپیکر گلگت بلتستان اسمبلی سعدیہ دانش نے چائلڈ میریج ریسٹرینٹ بل کی منظوری پر صدر پاکستان آصف علی زرداری کو خراج تحسین اور مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر پاکستان علی زرداری کی جانب سے چائلڈ میریج ریسٹرینٹ بل کی 2025ء کی منظوری بچوں کے حقوق اور ان کے محفوظ مستقبل کے لئے ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔ ایک بیان میں سعدیہ دانش کا کہنا تھا کہ یہ بل نہ صرف کم عمری کی شادیوں کی روک تھام بلکہ بچیوں کی تعلیم، صحت اور ان کے محفوظ مستقبل کا بھی ضامن ہو گا۔ چائلڈ میریج ریسٹرینٹ بل سینیٹر شیری رحمان اور ایم این اے شرمیلا فاروقی کا قابل ستائش اقدام ہے۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے ہمیشہ خواتین اور بچوں کے حقوق اور ان کے تحفظ کے لئے قانون سازی میں بھرپور حصہ لیا ہے اور ہمیشہ صف اول کا کردار ادا کیا ہے۔ اس اہم قانون سازی پر خصوصی حمایت اور رہنمائی پر ہم چئیرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری اور صدر پاکستان آصف علی زرداری کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے ہمیشہ خواتین اور بچوں کی قانون سازی پر ساتھ دیا اور رہنمائی کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: چائلڈ میریج اور ان کے
پڑھیں:
نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔
اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں