Express News:
2026-06-03@07:15:47 GMT
اورنگی ٹاؤن میں منی بس کی ٹکر سے دو سالہ بچی جاں بحق ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 1st, June 2025 GMT
کراچی:
اورنگی ٹاؤن 10 نمبر منگل بازار کے قریب منی بس کی ٹکر سے دو سالہ بچی جاں بحق ہوگئیں۔
ریسکیو حکام نے بتایا کہ منی بس کی ٹکر سے جاں بحق ہونے والے بچی کی شناخت دو سالہ ایمان دختر مرتضیٰ کے نام سے کی گئی اور یہ حادثہ روٹ زیڈ ٹو کی منی بس کی ٹکر سے پیش آیا تھا جسے پولیس نے قبضے میں لے لیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق بچی موٹر سائیکل پر اپنے چچا کے ہمراہ سوار تھی کہ موٹر سائیکل سلپ ہوگئی اور عقب سے آنے والی منی بس کی ٹکر سے بچی جاں بحق ہوگئیں۔
حکام کا کہنا تھا کہ بچی کے چچا معمولی زخمی ہوئے ہیں اور اس حوالے سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: منی بس کی ٹکر سے
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔