مالی نظم و ضبط بہتر بنانے جیسے اقدامات سے عوام کے اعتماد کی بحالی ہوئی:وزیر خزانہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, June 2025 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے "اپسوس سروے" میں ملکی سمت اور معیشت پر عوامی اعتماد میں اضافے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ نتائج گزشتہ 14 ماہ میں حکومت کی مربوط اور ذمہ دارانہ معاشی حکمت عملی کی کامیابی کے عکاس ہیں۔
نجی ٹی وی سما کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اپنے بیان میں کہا کہ اپسوس صارف اعتماد سروے کے نتائج پاکستان میں بہتر ہوتی معاشی صورتحال اور عوامی رجحانات کا واضح ثبوت ہے۔ اب 42 فیصد پاکستانی یہ یقین اور اعتماد رکھتے ہیں کہ ملک درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔
وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت نے مہنگائی پر قابو پانے اور زر مبادلہ کی شرح تبادلہ کو مستحکم کرنے کیلئے اقدامات کئے۔ مالی نظم و ضبط بہتر بنانے جیسے اقدامات سے عوام کا اعتماد بحال ہوا۔ وزیر خزانہ نے کہاکہ سروے کے مطابق صارفین کے اعتماد میں نمایاں اضافہ ہوا۔
چین اور روس پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں ، بھارت کے ساتھ کون ہے؟ اہم بھارتی شخصیت نے سوال اٹھا دیا
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
وزیرِ اعظم شہباز شریف—فائل فوٹووزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ صنعتی مصنوعات کی پیداوار میں اضافے سے برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات ترجیح ہیں۔
وزیرِاعظم کی زیرِ صدارت سرمایہ کاری میں اضافے، شعبہ جاتی اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر جائزہ اجلاس ہوا جس میں متعلقہ وزارتوں کی جانب سے مختلف زیرِغور پالیسی تجاویز پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اسحاق ڈار، محمد اورنگزیب، احد چیمہ، عطاء تارڑ شریک ہوئے۔
نوجوانوں کو جدید علم اور مہارتوں سے آراستہ کرنا وقت کی ضرورت ہے، اے آئی کے فوائد اور چیلنجز دونوں ہیں: شہباز شریف
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے صنعت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ توانائی کی ضروریات متبادل توانائی ذرائع سے پوری کرنے کے لیے بھر پور کام ہو رہا ہے۔
وزیرِ اعظم کا مزید کہنا ہے کہ توانائی بچانے اور سستی ٹرانسپورٹ کے لیے الیکٹرک وہیکلز پالیسی ضروری ہے۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اور بہترین کارکردگی اولین ترجیح ہے۔