پاکستان ٹیم ٹی20 میں اوپنرز کی طرف سے مضبوط آغاز کیلئے ترس گئی
اشاعت کی تاریخ: 1st, June 2025 GMT
پاکستانی ٹیم ٹی210 فارمیٹ میں اوپنر کی طرف سے مضبوط آغاز کیلئے ترس گئی۔
سال 2024 سے اب تک ٹاپ 10 ٹیموں میں پاکستانی اوپنرز کی ایوریج سب سے کم 17.7 ہے، 32 میچز میں اوپنرز مشترکہ طور پر 550 رنز ہی بنا سکے۔
ٹی20 کرکٹ میں ابتدائی 6 اوورز کے پاور پلے میں تیزی سے رنز بنانے والی ٹیموں کو ہی ایڈوانٹیج حاصل ہوتا ہے، مگر پاکستانی اوپنرز ان ابتدائی اوورز کا ٹیم کو بھرپور فائدہ پہنچانے میں اکثر ناکام دکھائی دیتے ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان نے 2024 سے ابتک ٹی20 انٹرنیشنلز میں 10 اوپننگ پیئرز بدل ڈالے
2024 سے اب تک اوپننگ شراکت گرین شرٹس کو تسلسل سے مضبوط بنیاد کی فراہمی میں ناکام رہی جس کا اثر ٹیم کی مجموعی کارکردگی پر بھی پڑا، اس دوران پاکستان نے مجموعی طور پر 32 ٹی20 میچز کھیلے، ان میں اوپنرز نے مشترکہ طور پر 550 رنز اسکور کیے۔
اس دوران اوپننگ شراکت کی اوسط 17.
مزید پڑھیں: 33 میچز 38 ڈیبیو! پاکستان سب سے آگے
اسی طرح انگلش اوپنرز 20 میچز میں 37.1 کی اوسط سے 705 رنز بنا کر تیسرے نمبر پر ہیں، سری لنکا 32.6 کی اوسط سے چوتھے نمبر پر ہے، اس کے اوپنرز نے 23 میچز میں 751 رنز بنائے۔
آسٹریلوی اوپنرز نے 21 میچز میں 670 رنز 31.9 کی اوسط سے اسکور کیے، نیوزی لینڈ 27 میچز میں 28.2 کی اوسط سے 763 رنز کے ساتھ چھٹے نمبر پر ہے۔
جنوبی افریقا کے اوپنرز کی مشترکہ اوسط 26.3 ہے، بھارت 25.5 ایوریج کے ساتھ آٹھویں اور بنگلادیش 25.3 کی اوسط سے نویں نمبر پر ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی اوسط سے نمبر پر ہے کے اوپنرز اوپنرز نے میچز میں کے ساتھ
پڑھیں:
تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
وزیراعظم شہباز شریف نے تیزی سے بڑھتی آبادی کو ملک کے لیے چیلنج قرار دے دیا۔وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت ملک میں بہبود آبادی کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے نیشنل پاپولیشن کونسل کا اجلاس جلد از جلد بلانے کی ہدایت کی۔شہباز شریف نے کہا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ملک کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے، آبادی پر قابو پانے کیلئے اقدامات اور بہبود آبادی کو قومی فریضہ سمجھا جانا چاہیے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آبادی میں توازن ہی پائیدار قومی ترقی کی ضمانت ہے، آبادی کی منصوبہ بندی کو قومی ترقی اور معاشی استحکام سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے، بہبود آبادی اقدامات سے متعلق صوبوں کے ساتھ روابط اور ہم آہنگی مزید بہتر بنائی جائے، بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے مؤثر عوامی آگہی مہم کا کلیدی کردار ہے۔