مولانا فضل الرحمان نے خیبرپختونخوا میں کرپشن کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کردیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, June 2025 GMT
جمعیت علما اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں کرپشن اس وقت تک ختم نہیں ہو سکتی جب تک ہماری حکومت قائم نہیں ہو جاتی۔ اربوں روپے کی مبینہ کرپشن کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہییں۔
پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ماضی میں ہمارے دور میں کرپشن میں واضح کمی آ چکی تھی، لیکن آج تک آمنے سامنے بیٹھ کر لو دو کیا جاتا ہے۔
صوبے میں کرپشن سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے لطیفہ سناتے ہوئے کہاکہ پیپلزپارٹی کرپشن کے خلاف احتجاج نہیں کررہی بلکہ اپنا ریکارڈ ٹوٹنے کے خلاف احتجاج کررہی ہے۔
انہوں نے کہاکہ بھارتی وزیراعظم مودی کی حماقتوں کی وجہ سے خطہ دوبارہ جنگ کی طرف چلا گیا، ہندوستان کی جانب سے اب بھی جارحیت کا خطرہ موجود ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ ہمیں جدید دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھ کر فیصلے کرنا ہوں گے، چین معاشی میدان میں ابھر کر سامنے آرہا ہے، جے یو آئی کی تجویز یہی ہے کہ ایشیا کو مضبوط کریں۔
انہوں نے کہاکہ ہمیں پاکستان کی دفاعی قوتوں پر اعتماد ہے، حالیہ پاک بھارت جنگ کے بعد پاکستان عالمی سطح پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان اور افغانستان ایک دوسرے کے لیے ناگزیر ہیں، دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بہتری کی طرف جارہے ہیں جو خوش آئند ہے۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سفیر کی سطح پر تعلقات کی بحالی اہم پیشرفت ہے۔
سربراہ جے یو آئی نے کہاکہ ہم 18 سال سے کم عمر بچوں کی شادی پر پابندی کے بل کو مسترد کرتے ہیں، ہم قرآن و سنت کے منافی کسی قانون کو نہیں مانتے، اس قانون کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی جلسے کیے جائیں گے اور دیگر اقدامات بھی کریں گے۔
انہوں نے کہاکہ یہ ملک اسلام کے نام پر بنا تھا، لیکن اس کی اسلامی شناخت کو ختم کیا جارہا ہے، جو ہمیں قبول نہیں۔ آئین میں واضح ہے کہ قرآن و سنت کے منافی قانون سازی نہیں ہوگی۔
مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ اب 18 سال سے کم عمر بچوں کی شادی کے حوالے سے یو این قرارداد کا حوالہ دیا جارہا ہے، یہ حکمران آئین کے ساتھ ساتھ قرآن و سنت کے بھی مجرم ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ملک میں نکاح کو مشکل اور زنا کو آسان بنایا جارہا ہے، ہم 29 جون کو ہزارہ ڈویژن میں بڑا اجتماع کریں گے، جس میں اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا جائےگا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ دین میں شادی کے لیے عمر کی حد نہیں بلکہ بلوغت کی شرط رکھی گئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews پی ٹی آئی حکومت جمعیت علما اسلام خیبرپختونخوا عدالتی تحقیقات کرپشن مولانا فضل الرحمان وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی حکومت جمعیت علما اسلام خیبرپختونخوا عدالتی تحقیقات مولانا فضل الرحمان وی نیوز مولانا فضل الرحمان نے انہوں نے کہاکہ
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔