بھارت کی پراکسی وار اب کھلی جارحیت میں تبدیل ہو چکی ہے،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
اشاعت کی تاریخ: 1st, June 2025 GMT
اسلام آباد/ کوئٹہ: فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا ہے کہ بلوچستان میں دہشتگردی کے نیٹ ورکس کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے۔
کویٹہ میں جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ بھارتی پراکسی وار اب چھپی نہیں بلکہ کھلی جارحیت میں تبدیل ہو چکی ہے، دشمن کی ہر سازش کو ناکام بنائیں گے، چاہے اندرونی ہو یا بیرونی۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ پاکستان آرمی ہر خطرے کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے اور بلوچستان میں امن ناقابلِ سودے بازی ہے۔
خطاب میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کا مستقبل بلوچستان سے جڑا ہے۔
جرگے کے اختتام پر قبائلی عمائدین نے حکومت اور افواجِ پاکستان سے اظہارِ یکجہتی بھی کیا۔
قبل ازیں اپنے خطاب میں وزیراعظم محمد شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بلوچستان بلوچستان کے لوگوں کے گلے شکوے مل بیٹھ کر دور کیے جا سکتے ہیں لیکن دہشتگردوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
وزیراعظم نے کہا کہ ترقی وخوشحالی اور بدامنی اکھٹے نہیں چل سکتے، آئندہ وفاقی ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی ) میں 25فیصد حصہ بلوچستان کے لیے رکھا گیا ہے۔
وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے عوام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ 6، 7اور 10مئی کو بھارت نے پاکستان پر جو حملہ کیا تھا اس کے جواب میں افواج پاکستان نے بہادری اور دلیری کے ساتھ دشمن کو وہ شکست دی جس کو وہ عمر بھر یاد رکھے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔