آپریشن سندور کی ناکامی، کانگریس رہنما کی مودی پر کڑی تنقید
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
مدھیہ پردیش کے کانگریس صدر جیتو پٹواری کا مودی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہنا تھا کہ مودی جی آپ سندور کی بات کرتے ہیں، آپ یہ کیوں نہیں پوچھتے کہ مدھیہ پردیش میں روزانہ 25 بیٹیوں کی عصمت دری کیوں ہوتی ہے؟۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستانی مسلح افواج کے ہاتھوں ہزیمت کے بعد بھارتی حکومت اور وزیراعظم مودی تاحال تنقید کی زد میں ہے۔ مدھیہ پردیش کے کانگریس صدر جیتو پٹواری کا مودی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہنا تھا کہ مودی جی آپ سندور کی بات کرتے ہیں، آپ یہ کیوں نہیں پوچھتے کہ مدھیہ پردیش میں روزانہ 25 بیٹیوں کی عصمت دری کیوں ہوتی ہے؟ جیتو پٹواری نے کہا کہ آپ یہ کیوں نہیں پوچھتے کہ بالا گھاٹ میں درندے رات بھر چار بیٹیوں کی عصمت دری کرتے رہے، جس طرح کی عصمت دردی کی باتیں اب ہوتی ہیں کیا آپ نے پہلے کبھی ایسی باتیں سنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ کو بتانا ہو گا کہ تین ہزار کی گارنٹی تھی، آپ اس سندور کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں۔ آپ نے انہیں گارنٹی دی، تین ہزار کا کیا ہوا، ان بہنوں کی عزت کا کیا ہوا۔ مدھیہ پردیش کے کانگریس کے صدر کا کہنا ہے کہ مودی آپ بھوپال میں سندور کی بات کر رہے ہیں آپ کے وزیراعلیٰ، وزیر داخلہ بھی ہیں، ان بہنوں کے اعتماد کا کیا ہوا، آپ اس کا جواب کیوں نہیں دینا چاہتے؟۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مدھیہ پردیش کیوں نہیں سندور کی کی عصمت
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔