بنگلا دیش نے 13 سال بعد پاکستان کے خلاف نئی تاریخ رقم کر دی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
لاہور:
بنگلا دیش نے 13 سال بعد پاکستان کے خلاف نئی تاریخ رقم کر دی۔
قذافی اسٹیڈیم لاہور میں اتوار کے روز کھیلے گئے تیسرے اور آخری ٹی ٹوئنٹی میچ میں بنگلہ دیش نے پاکستان کے خلاف اپنی ٹی ٹوئنٹی تاریخ کا سب سے بڑا اسکور بنا کر نئی تاریخ رقم کر دی۔
لٹن داس کی قیادت میں بنگلہ دیشی ٹیم نے مقررہ 20 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 196 رنز اسکور کیے۔ یہ پاکستان کے خلاف ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں بنگلہ دیش کا سب سے بڑا مجموعی اسکور ہے۔ اس سے قبل بنگلہ دیش نے 2012 میں پالی کیلے میں 6 وکٹوں پر 175 رنز بنائے تھے۔
تیسرے میچ میں بنگلہ دیش کی جانب سے پرویز حسین نے 66 جبکہ تنزید حسن نے 42 رنز کی اہم اننگز کھیلی۔
تاہم اس یادگار اسکور کے باوجود بنگلہ دیش کو فتح نہ مل سکی۔ پاکستان نے 197 رنز کا ہدف 18ویں اوور میں 3 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر کے سیریز میں 0-3 سے کلین سوئپ مکمل کر لیا۔
میچ کے ہیرو محمد حارث رہے جنہوں نے شاندار 107 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی جبکہ ان کا ساتھ محمد رضوان نے 45 رنز بنا کر دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان کے خلاف میں بنگلہ دیش
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔