نئی دہلی : بھارتی فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل امر پریت سنگھ نے اپنی حکومت اور دفاعی اداروں پر کھل کر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ “آج تک بھارت میں کوئی بھی دفاعی منصوبہ وقت پر مکمل نہیں ہوا!”

دہلی میں منعقدہ کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری (CII) کی سالانہ بزنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ائیر چیف نے دفاعی منصوبوں کی منصوبہ بندی، معاہدوں اور ان کی تاخیر پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا تھا: “جب ہم کسی معاہدے پر دستخط کرتے ہیں، ہمیں پہلے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ وقت پر مکمل نہیں ہوگا، لیکن پھر بھی دستخط کر دیتے ہیں۔”

ائیرمارشل کا مزید کہنا تھا کہ بھارت کو چاہیے کہ وہ صرف کاغذی منصوبے بنانے کے بجائے اپنا دفاعی نظام خود ڈیزائن کرے اور وقت پر مکمل کرے۔

انہوں نے شکوہ کیا کہ معاہدے کرتے وقت غیر حقیقی ٹائم لائنز کیوں دی جاتی ہیں؟ کیوں ایسے وعدے کیے جاتے ہیں جو پورے ہی نہیں کیے جا سکتے؟

دوسری جانب معروف بھارتی تجزیہ کار سوشانت سرین نے بھی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر ماضی میں تاخیر نہ ہوتی تو پاکستان کے ساتھ جنگ میں بھارت کو اتنا نقصان نہ ہوتا۔ انہوں نے اس سست روی کی اصل وجہ “سیاسی مداخلت” کو قرار دیا۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت کو حال ہی میں پاکستان کے آپریشن ’بنیان مرصوص‘ کے نتیجے میں بڑی فوجی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

Post Views: 2.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان

 اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔

 ’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف