چین امریکا کی جانب سے بے بنیاد الزامات کو سختی سے مسترد کرتا ہے، چینی وزارت تجارت WhatsAppFacebookTwitter 0 2 June, 2025 سب نیوز

بیجنگ :چینی وزارت تجارت کے ترجمان نے امریکا کے بعض حالیہ  بیانات کے حوالے سے صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیے۔ ایک صحافی نے سوال پوچھا کہ حالیہ دنوں میں امریکی فریق کی جانب سے مسلسل یہ معلومات گردش کر رہی ہیں کہ چینی فریق چین-امریکہ جنیوا اقتصادی و تجارتی مذاکرات کے معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ اس بارے میں وزارت تجارت کا کیا تبصرہ ہے؟

پیر کے روز چینی میڈیا نے بتا یا کہ  چینی وزارت تجارت کے ترجمان نے جواب دیا کہ چین اور امریکہ نے “چین-امریکہ جنیوا اقتصادی و تجارتی مذاکرات کا مشترکہ اعلامیہ”  جاری کیا تھا۔ اس کے بعد چینی فریق نے مشترکہ اعلامیے میں طے پانے والے معاہدے کے مطابق امریکہ کے “مساوی محصولات” کے خلاف اٹھائے گئے متعلقہ اقدامات کو منسوخ یا معطل کر دیا۔

چینی فریق نے ذمہ دارانہ رویہ اپناتے ہوئے جنیوا اقتصادی و تجارتی مذاکرات کے معاہدے کو سنجیدگی سے لاگو کیا اور اس کا تحفظ کیا۔ چین اپنے حقوق کے تحفظ میں پختہ ہے اور معاہدے پر عملدرآمد میں مخلص ہے۔ دوسری جانب امریکی فریق نے جنیوا مذاکرات کے بعد مسلسل چین کے خلاف متعدد امتیازی پابندیاں عائد کی ہیں، جن میں اے آئی چپس کی برآمدات پر کنٹرول گائیڈ لائنز جاری کرنا، چپ ڈیزائن سافٹ ویئر (ای ڈی اے) کی چین کو فروخت بند کرنا، اور چینی طلبہ کے ویزے منسوخ کرنے کا اعلان شامل ہے۔ یہ اقدامات دونوں ممالک کے رہنماؤں کے 17 جنوری کے ٹیلیفونک مذاکرات کے معاہدے کی سنگین خلاف ورزی ہیں، جنیوا اقتصادی و تجارتی مذاکرات کے موجودہ معاہدے کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں، اور چین کے جائز حقوق کو بری طرح متاثر کرتے ہیں۔

امریکہ یکطرفہ طور پر نئے اقتصادی و تجارتی تنازعات کو جنم دے رہا ہے، جو دونوں ممالک کے اقتصادی و تجارتی تعلقات میں غیر یقینی صورتحال اور عدم استحکام پیدا کر رہے ہیں۔ امریکہ نہ صرف اپنے اقدامات پر غور کرنے سے گریز کر رہا ہے بلکہ الٹا چین پر بے بنیاد الزامات عائد کرتے ہوئے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگا رہا ہے، جو حقیقت سے یکسر متصادم ہے۔ چینی فریق ان بے بنیاد الزامات کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔”چین-امریکہ جنیوا اقتصادی و تجارتی مذاکرات کا مشترکہ اعلامیہ” باہمی احترام اور مساوی مشاورت کی بنیاد پر حاصل کیا گیا ایک اہم معاہدہ ہے، جس کے نتائج آسان نہیں تھے۔ ہم امریکی فریق پر زور دیتے ہیں کہ وہ چینی فریق کے ساتھ مل کر کام کرے، فوری طور پر اپنی غلط کارروائیوں کو درست کرے، جنیوا اقتصادی و تجارتی مذاکرات کے معاہدے کا تحفظ کرے، اور چین-امریکہ اقتصادی و تجارتی تعلقات کو صحت مند، مستحکم اور پائیدار ترقی کی جانب گامزن کرے۔ اگر امریکی فریق اپنی ضد پر قائم رہا اور چین کے مفادات کو نقصان پہنچانا جاری رکھا، تو چینی فریق اپنے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے مزید سخت اقدامات اٹھانے پر مجبور ہوگا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچین کے “14ویں پانچ سالہ منصوبے” کے اہم انجینئرنگ منصوبے مستحکم رفتار سے آگے بڑھ رہے ہیں، چینی میڈیا چین کے “14ویں پانچ سالہ منصوبے” کے اہم انجینئرنگ منصوبے مستحکم رفتار سے آگے بڑھ رہے ہیں، چینی میڈیا بجٹ 2025-26،تنخواہ دار طبقے کو بڑا ریلیف اور سرکاری ملازمین کو خوشخبری ملنے کا امکان، مختلف تجاویز زیر غور سی ایم جی کا ڈریگن بوٹ فیسٹیول خصوصی ٹیلی ویژن پروگرام تعلیم طاقتور ملک کی تعمیر اور قومی نشاۃ ثانیہ کی بنیاد ہے، چینی صدر بین الاقوامی ثالثی ادارے کا ہانگ کانگ میں قیام، تنازعات کے حل کا نیا راستہ چین کی ترقی  معاصر تاریخ میں سب سے متاثر کن واقعات میں سے ایک ہے،سابق وزیراعظم نیوزی لینڈ TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: مذاکرات کے معاہدے چینی وزارت تجارت بے بنیاد الزامات امریکی فریق چین امریکہ چینی فریق اور چین کی جانب چین کے رہا ہے

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • وزیر تجارت سے کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات، تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے صنعت کو درپیش مشکلات بارے آگاہ کیا
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی