ویمنز کرکٹ ورلڈ کپ کے مقامات، تاریخوں کا اعلان، پاکستان کے لیے نیوٹرل وینیو بھی شامل
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے خواتین کے اپنے 2 آنے والے عالمی مقابلوں کے مقامات اور تاریخوں کے حوالے سے اہم اعلانات کیے ہیں جن کی میزبانی بھارت اور انگلینڈ رواں سال اور اگلے برس کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان ویمنز ٹیم نے تھائی لینڈ کوشکست دے کر آئی سی سی ورلڈ کپ 2025 کے لیے کوالیفائی کرلیا
آئی سی سی ویمنز کرکٹ ورلڈ کپ 2025 کی تاریخوں اور مقامات کی تصدیق ہو گئی ہے اور اس کے ساتھ ہی خواتین کے کرکٹ ورلڈ کپ اور ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 دونوں کے ابتدائی میچوں اور ناک آؤٹ راؤنڈز کے شیڈول کی بھی تصدیق کر دی گئی ہے۔
آئی سی سی کے چیئرمین جے شاہ نے کہا کہ ہم آنے والے مہینوں میں بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا اور انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کی جانب سے منعقد کیے جانے والے خواتین کے عالمی ٹورنامنٹس کے حوالے سے کچھ اہم اعلانات کرنے کے لیے پرجوش ہیں۔
جے شاہ نے کہا کہ شائقین نے حالیہ برسوں میں خواتین کے کھیل کے لیے زبردست حمایت کا مظاہرہ کیا ہے اور مجھے یقین ہے کہ وہ اب ان ایونٹس کے لیے منصوبہ بندی شروع کر دیں گے کیونکہ ان کے پاس اہم تاریخیں اور مقامات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کی کرکٹ ہمارے وژن میں سب سے آگے ہے اور ہمیں یقین ہے کہ یہ 2 آنے والے ٹورنامنٹ نہ صرف اس ناقابل یقین رفتار کو برقرار رکھیں گے جو ہم نے حالیہ برسوں میں بنایا ہے بلکہ اسے مزید بلندیوں تک لے جائیں گے۔
مزید پڑھیے: فاطمہ ثنا ٹی20 ورلڈ کپ 2024 کے لیے پاکستان ویمنز ٹیم کی کپتان مقرر، ٹیم کا بھی اعلان
آئی سی سی ویمنز کرکٹ ورلڈ کپ 2025 میں جس میں 28 لیگ میچوں کے ساتھ راؤنڈ رابن فارمیٹ میں 8 ٹیمیں شامل ہوں گی۔ یہ ورلڈ کپ 30 ستمبر سے 2 نومبر تک 5 مقامات پر کھیلا جائے گا جن میں ایم چناسوامی اسٹیڈیم (بنگلور)، اے سی اے اسٹیڈیم (گوہاٹی)، ہولکر اسٹیڈیم (آر وی سی اے)، آر وی ڈی سی اے (آر وی سی اے) اسٹیڈیم اور پریماداسا اسٹیڈیم (کولمبو، سری لنکا) شامل ہیں۔
ٹورنامنٹ کا آغاز بھارت کے شہر بنگلورو میں کھیلے جانے کے ساتھ ہوگا۔ خواتین کا کرکٹ ورلڈ کپ 12 سال بعد بھارت میں کھیلا جائے گا۔
بھارت کی میزبانی میں آخری آئی سی سی عالمی خواتین کا ایونٹ سنہ 2016 میں ویمنز ٹی20 ورلڈ تھا اور اس کا انعقاد مردوں کے ایونٹ کے ساتھ کیا گیا تھا۔
ناک آؤٹ کے مقامات کا انحصار پاکستان کے کوالیفائی کرنے پر ہے کیونکہ ایک سیمی فائنل اور فائنل کے لیے 2 متبادل مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے۔
فائنل 2 نومبر کو بنگلورو یا کولمبو میں ہوگا۔ پہلا سیمی فائنل 29 اکتوبر کو گوہاٹی یا کولمبو میں اور دوسرا سیمی فائنل 30 اکتوبر کو بنگلورو میں ہوگا۔
کولمبو پہلے سیمی فائنل اور فائنل کا مقام صرف اسی صورت میں ہو گا اگر پاکستان ان مراحل کے لیے کوالیفائی کرتا ہے۔
دریں اثنا برمنگھم میں ایجبسٹن کو آئی سی سی خواتین کےٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کے افتتاحی میچ کے میزبان کے طور پر اعلان کیا گیا ہے جس میں انگلینڈ کی خواتین 12 جون کو ٹورنامنٹ کا آغاز کر رہی ہیں۔
افتتاحی کھیل کے ٹکٹ بالغوں کے لیے 15 پاؤنڈ اور جونیئرز کے لیے 5 پاؤنڈز سے شروع ہوں گے۔
برمنگھم کے میچ کے بعد ٹورنامنٹ اپنا ملک گیر سفر جاری رکھے گا۔ اوول دونوں سیمی فائنل مقابلوں کی میزبانی کرنے والا ہے جبکہ فائنل 5 جولائی 2026 کو لندن کے مشہور لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں ہوگا۔
مزید پڑھیں: آئی سی سی ویمنز ورلڈ کپ کوالیفائر ٹیموں کی شاہی قلعے میں مہمان نوازی
سیمی فائنلز 30 جون اور 2 جولائی کو ہوں گے جس کے ٹکٹ کی قیمت بڑوں کے لیے 20 پاؤنڈز بچوں کے لیے 10 پاؤنڈز ہوگی جبکہ فائنل کا ٹکٹ 30 پاؤنڈز (بڑوں کے لیے) اور 15 پاؤنڈز (بچوں کے لیے) سے شروع ہوں گے۔
24 دنوں کے دوران، سات اعلی درجے کے مقامات پر کل 33 میچ کھیلے جائیں گے، جن میں اولڈ ٹریفورڈ کرکٹ گراؤنڈ (مانچسٹر)، ہیڈنگلے (لیڈز)، دی ہیمپشائر باؤل (ساؤتھمپٹن) اور برسٹل کاؤنٹی گراؤنڈ شامل ہیں۔
کل 12 ٹیمیں انگلینڈ اور ویلز میں اس باوقار ٹرافی کا مقابلہ کرنے کے لیے میدان میں اتریں گی۔ ٹرافی اس وقت نیوزی لینڈ کے پاس ہے۔
8 ممالک پہلے ہی اپنی جگہ بناچکے ہیں، آخری 4 شرکا کا فیصلہ اگلے سال خواتین کے ٹی 20 ورلڈ کپ کوالیفائرز کے ذریعے کیا جائے گا۔
افتتاحی میچ، سیمی فائنلز اور فائنل کے لیے خصوصی پری سیل ٹکٹ 12 جون 2025 کو دستیاب ہوں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئی سی سی ویمنز ورلڈ کپ پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم سری لنکا ویمنز ورلڈ کپ کی تاریخوں کا اعلان ویمنز ورلڈ کپ کے لیے نیوٹرل وینیو ویمنز ورلڈ کپ کے مقامات کا اعلان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئی سی سی ویمنز ورلڈ کپ پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم سری لنکا ویمنز ورلڈ کپ کرکٹ ورلڈ کپ ویمنز کرکٹ سیمی فائنل کے مقامات خواتین کے کے ساتھ کے لیے ہوں گے
پڑھیں:
میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
چین کی معروف الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکل ساز کمپنی ’بی وائی ڈی ‘ نے کہا ہے کہ سندھ کے علاقے غارو میں قائم کیا جانے والا اس کا 150 ملین ڈالر مالیت کا اسمبلنگ پلانٹ تکمیل کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
جبکہ کمپنی پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد مارکیٹ میں متعارف کرانے کے لیے کام تیز کر رہی ہے۔
کمپنی کے مطابق پلانٹ میں تعمیراتی کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جبکہ اس وقت جدید مشینری کی تنصیب، کمیشننگ اور دیگر تکنیکی مراحل جاری ہیں تاکہ عالمی معیار کے مطابق پیداوار کا آغاز کیا جا سکے۔
پلانٹ کی سالانہ پیداواری صلاحیت 25 ہزار گاڑیاں ہوگیبی وائی ڈی پاکستان، میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی ) کے وائس پریزیڈنٹ سیلز اینڈ اسٹریٹجی، دانش خالق نے بتایا کہ تقریباً 2 سال سے بھی کم عرصے میں تیار ہونے والا یہ منصوبہ پاکستان میں اپنی نوعیت کے تیز ترین آٹو مینوفیکچرنگ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے گی، شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ پک اپ آج مارکیٹ میں آئے گی
انہوں نے کہا کہ پلانٹ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد سالانہ تقریباً 25 ہزار نیو انرجی وہیکلز اسمبل کرنے کی صلاحیت رکھے گا، جس سے ملک میں ماحول دوست گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی۔
پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی جلد متعارف کرانے کا ہدفدانش خالق کے مطابق کمپنی کی اولین ترجیح پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد صارفین تک پہنچانا ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ باقاعدہ پیداوار شروع کرنے سے قبل مشینری کی جانچ، پیداواری آزمائش اور معیار کی تصدیق کے متعدد مراحل مکمل کیے جائیں گے تاکہ ہر گاڑی کمپنی کے عالمی معیار پر پوری اترے۔
2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی سب سے بڑی کھیپ پاکستان پہنچ گئیاس پیش رفت سے قبل بی وائی ڈی پاکستان نے گزشتہ ہفتے بحری جہاز کے ذریعے 2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی اب تک کی سب سے بڑی کھیپ درآمد کی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس درآمد کا مقصد صارفین کو بروقت گاڑیوں کی فراہمی یقینی بنانا اور ملک بھر میں موجود ڈیلر نیٹ ورک میں مطلوبہ تعداد میں گاڑیاں دستیاب رکھنا ہے۔
ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں اضافہبی وائی ڈی کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران نیو انرجی وہیکلز میں صارفین کی دلچسپی مسلسل بڑھی ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔
مزید پڑھیں:چین کی سب سے بڑی کارساز کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں لانچ کرنے کے لیے پُرعزم
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی جدید ٹیکنالوجی کی بدولت بی وائی ڈی گاڑیوں کے آپریٹنگ اخراجات روایتی پیٹرول یا ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں 75 فیصد تک کم ہو سکتے ہیں، جبکہ حفاظت، کارکردگی اور قابلِ اعتماد معیار بھی برقرار رہتا ہے۔
چارجنگ انفراسٹرکچر میں بھی سرمایہ کاری جاریدانش خالق نے بتایا کہ بی وائی ڈی پاکستان نے ہبکو گرین پرائیویٹ لمیٹڈ (ایچ جی ایل) کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ملک بھر میں نیو انرجی وہیکلز کے لیے چارجنگ نیٹ ورک کی توسیع کا کام بھی جاری رکھا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب تک کراچی سے پشاور تک تقریباً 1,300 کلومیٹر طویل روٹ پر 19 پبلک ڈی سی فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں مزید شہروں، اہم شاہراہوں اور دوسرے درجے کے شہری مراکز تک اس نیٹ ورک کو توسیع دی جائے گی۔
بی وائی ڈی نے 2024 میں مقامی شراکت دار میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) کے ساتھ اشتراک کے ذریعے پاکستان کی مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ میں باضابطہ طور پر قدم رکھا تھا۔
گزشتہ سال کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں اسمبل ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی جولائی یا اگست 2026 تک متعارف کرانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں 2030 تک فروخت ہونے والی 30 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی
ماہرین کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکلز کی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔
حکومت کی جانب سے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں بہتری ایسے عوامل ہیں جو اس شعبے میں سرمایہ کاری اور صارفین کی دلچسپی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔
بی وائی ڈی کا غارو پلانٹ بھی اسی بدلتے ہوئے رجحان کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی آٹو انڈسٹری، روزگار کے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الیکٹر گاڑیوں الیکٹرک گاڑیاں ایندھن بی وائی ڈی پیداواری ٹیکنالوجی نیو انرجی وہیکلز