ٹرمپ کےسابق مشیر کا بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے حوالے سے اہم بیان آگیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
لندن: امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے سابق مشیر ساجد تارڑ کا بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے حوالے سے اہم بیان آگیا۔
نجی ٹی وی کے مطابق چیئرمین او پی ایف سیدقمر رضا کے صاحبزادے کی شادی کی تقریب میں اہم شخصیات نے شرکت کی۔تقریب میں امریکی صدر ٹرمپ کے سابق مشیر ساجد تارڑ، وفاقی وزیر چودھری سالک حسین ، برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمشنر ڈاکٹر محمد فیصل سمیت 600 سے زائد اہم افراد شریک ہوئے۔تقریب میں برطانوی ٹریڈانوائے محمدیاسین اورلارڈقربان حسین نے بھی شرکت کی۔
اس موقع پر سابق مشیر ڈونلڈ ٹرمپ ساجدتارڑ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی جلد باہر آتے نظر نہیں آ رہے، ملک میں صورتحال تبدیل ہو گئی ہے، اب یہ نیا پاکستان ہے۔
ساجد تارڑ کا کہنا تھا کہ امریکہ کی پالیسی میں پاکستان کے حق میں تبدیلی آ رہی ہے، جنگی صورتحال میں پاکستان نے بھارت کو مو¿ثر جواب دیا
سابق مشیر نے کہا کہ ٹرمپ کا پہلا دور بھی امن کادورتھاجس میں کشمیر پرثالثی کی پیشکش کی گئی، ٹرمپ نوبل انعام کے مستحق ہیں، عالمی امن کے لئے ان کا کردار اہم ہے۔
وفاقی وزیرچودھری سالک حسین کا کہنا تھا کہ اوورسیز کنونشن سے اوورسیز پاکستانیوں کو نئی امید ملی، ہم نے کنونشن کو سیاست سے بالاتر رکھا، ہراوورسیز پاکستانی ہمارے لئے برابر ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ اوورسیز پاکستانی پاکستان کا اتنا ہی حصہ ہیں جتنا ملک کے اندر رہنے والے ہیں، میرپور انٹرنیشنل ایئرپورٹ کیلئے ٹاسک فورس قائم کردی ہے، ہرہفتے میٹنگزہو رہی ہیں، 2 سے 3 ہفتے میں ایئرپورٹ منصوبے کا فائنل ڈاکیومنٹ وزیراعظم کو پیش کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔