بھارت کے جارحانہ اقدامات اور یکطرفہ فیصلے خطے کے امن کیلئے خطرہ ہیں، چین اور پاکستان میں اتفاق WhatsAppFacebookTwitter 0 2 June, 2025 سب نیوز

نیو یارک (سب نیوز)پاکستان اور چین نے پرامن طریقے سے تنازعات کے حل، کثیر الجہتی تعاون، اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں کی پاسداری، معاہدوں کے تقدس اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ میں عوامی جمہوریہ چین کے مستقل مندوب فو کانگ، نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ جناب بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں اقوام متحدہ میں موجود پاکستانی پارلیمانی وفد سے ملاقات کی۔ملاقات میں بھارت کی حالیہ جارحیت کے بعد جنوبی ایشیا کی بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال اور خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی مسلسل کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔بلاول بھٹو زرداری نے بھارتی اشتعال انگیزی کے دوران چین کی غیر متزلزل حمایت پر پاکستانی عوام کی جانب سے دلی شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے 22 اپریل 2025 کو پہلگام حملے کے بعد کی صورتحال سے چینی فریق کو آگاہ کیا اور بھارت کے جارحانہ رویے کے مقابلے میں پاکستان کے ذمہ دارانہ اور محتاط طرز عمل پر روشنی ڈالی۔بلاول بھٹو نے افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان کی جانب سے غیر جانبدار، شفاف اور آزادانہ تحقیقات کی پیشکش کو بھارت نے مسترد کر دیا۔
انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے جموں و کشمیر کے تنازع کا حل ناگزیر ہے اور چین پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق، کثیر الجہتی تعاون اور بات چیت کے ذریعے مسئلہ کشمیر کے حل میں موثر کردار ادا کرے۔پی پی چیئرمین نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ تنازعات کے انتظام سے آگے بڑھ کر ان کے مستقل حل کی طرف قدم بڑھائے تاکہ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن ممکن ہو سکے۔
وفد نے بھارت کی جانب سے پاکستانی سرزمین پر بلاجواز حملوں، جان بوجھ کر عام شہریوں کو نشانہ بنانے، پاکستان میں دہشت گردی کی مالی معاونت اور حمایت میں ملوث ہونے، اور سندھ طاس آبی معاہدے کو معطل کرنے جیسے اشتعال انگیز اقدامات کی تفصیلات بھی چینی قیادت کے ساتھ شیئر کیں۔وفد نے اس اقدام کو پانی کو ہتھیار بنانے اور بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔
اس موقع پر چین اور پاکستان نے اتفاق کیا کہ جارحانہ اقدامات اور یکطرفہ فیصلے خطے کے امن کے لیے خطرہ ہیں اور ان کی سختی سے مخالفت کی جانی چاہیے۔دونوں فریقین نے پرامن طریقے سے تنازعات کے حل، کثیر الجہتی تعاون، اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں کی پاسداری، معاہدوں کے تقدس اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرتسلیم کرتا ہوں لوگوں نے ہمیں ن لیگ کا ساتھ دینے کی وجہ سے ووٹ نہیں دیا، ندیم افضل چن تسلیم کرتا ہوں لوگوں نے ہمیں ن لیگ کا ساتھ دینے کی وجہ سے ووٹ نہیں دیا، ندیم افضل چن پانی کے مسئلے پر بھارت سے بیٹھ کر بات کریں گے، وزیراعظم کی سینئر صحافیوں سے غیررسمی گفتگو پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کیخلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج بھارت جب تک دہشتگردی کو بطور ہتھیار استعمال کر کے مسلمانوں پر تشدد کریگا، امن نہیں ہوسکتا، بلاول بھٹو کراچی میں ساتویں بار زلزلے کے جھٹکے، شدت 2.

4 ریکارڈ سپریم کورٹ، ماحولیاتی انصاف کو فروغ دینے کیلئے کمیٹی کی تشکیل نو TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

پڑھیں:

اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی ملاقات، علاقائی امن کے لیے سفارتی روابط جاری رکھنے پر اتفاق

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس کے موقع پر ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے ملاقات کی جس میں دو طرفہ تعلقات اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کا آغاز، اسحاق ڈار کی شرکت

وزارت خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ایران کے درمیان قریبی اور دیرینہ تعلقات کا اعادہ کرتے ہوئے باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر گفتگو کی۔

اس موقع پر اسحاق ڈار نے حالیہ علاقائی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پائیدار امن اور استحکام کے لیے تمام فریقوں کو مذاکرات، تحمل، کشیدگی میں کمی اور مسلسل سفارتی رابطوں کو فروغ دینا ہوگا۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جون 2026 میں طے پانے والے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (اسلام آباد ایم او یو) کے تحت ہونے والی پیش رفت کو آگے بڑھایا جانا چاہیے تاکہ خطے میں دیرپا امن اور استحکام یقینی بنایا جا سکے۔

 مزید پڑھیے: اسحاق ڈار اور پینی وونگ کی ملاقات، خطے میں امن کے لیے سفارتکاری پر زور

ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے خطے میں امن و سلامتی کے فروغ کے لیے پاکستان کی مسلسل سفارتی حمایت اور مثبت کردار کو سراہا۔

انہوں نے ایرانی ماہی گیروں اور عملے کی محفوظ وطن واپسی میں پاکستان کے تعاون پر بھی شکریہ ادا کیا جن میں وہ افراد بھی شامل تھے جنہیں امریکی حکام نے مختلف کارروائیوں کے دوران حراست میں لیا تھا۔

عراقچی نے کہا کہ پاکستان نے ایرانی، امریکی اور دیگر متعلقہ حکام کے ساتھ مؤثر رابطہ کاری کرتے ہوئے ان افراد کی پاکستان کے راستے محفوظ واپسی کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

مزید پڑھیں: افغانستان سے دہشتگردی خطے کے لیے بڑا خطرہ، اسحاق ڈار کا ایس سی او سے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ

ملاقات میں دونوں وزرائے خارجہ نے باہمی دلچسپی کے امور پر قریبی رابطے اور باقاعدہ مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا جبکہ خطے میں امن، استحکام اور مشترکہ خوشحالی کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسحاق ڈار اور عباس عراقچی ملاقات ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی ایس سی او شنگھائی تعاون تنظیم نائب وزیراعظم اسحاق ڈار

متعلقہ مضامین

  • دہشتگردی خطے کے لیے بڑا خطرہ ہے، اسحاق ڈار کا ایس سی او سمٹ میں خطاب
  • کشمیر عالمی تنازع ہے،داخلی معاملہ نہیں، سلامتی کونسل میں پاکستان کا بھارت کو دوٹوک جواب
  • اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی ملاقات، علاقائی امن کے لیے سفارتی روابط جاری رکھنے پر اتفاق
  • چیئرمین رویت ہلال کمیٹی کا پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس ہیڈکوارٹر کا دورہ، منشیات کے خلاف مشترکہ اقدامات پر اتفاق
  • بھارت کا سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کرنا اشتعال انگیز ہے، اسحاق ڈار
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ