پولنگ اسٹیشن سے دھاندلی کی رپورٹ نہیں آئی، اختیار ولی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
لاہور:
رہنما مسلم لیگ (ن) اختیار ولی خان کا کہنا ہے کہ دھاندلی کی جو بات ہے چاہے وہ پیپلزپارٹی کرے یا تحریک انصاف کرے ، میں گزشتہ تقریباً 30 سال سے زائد کے عرصہ سے الیکشن لڑ رہا ہوں، جہاں پر دھاندلی ہوتی ہے، دھاندلی کا مارجن اتنا نہیں ہوتا کہ آدھوں آدھ فرق آجائے.
ایکسپریس نیوز کے پروگرام اسٹیٹ کرافٹ میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ پولنگ اسٹیشن سے ابھی تک دھاندلی کی رپورٹ نہیں آئی ہے، یہ اکثر واویلا کرتے ہیں، تحریک انصاف کے ہمارے ساتھی کہ فارم 47 ، فارم 47، تومیرے خیال میں ان کے پاس جواپنے فارم45 ہے اس کے حساب سے بھی یہ آدھوں آدھ سے زیادہ کے فرق سے ہار گئے تھے.
رہنما تحریک انصاف احمد خان بھچر نے کہا کہ میں پہلے بھی یہ عرض کر رہا تھا کہ بہتر ہوتا جو ادھر (ن) لیگ کی قیادت موجود تھی کیونکہ کل وہ بھی گراؤنڈ پر تھے ہم بھی گراؤنڈ پر تھے تو اخیتار ولی خان صاحب کو چونکہ گراؤنڈ کے حالات کا پتہ نہیں تھا کل کا تو میں تو خود ان کو عرض کروں گا کہ میں آپ کو ساری چیزیں بتا دیتا ہوں ، یہ خود جج بن جائیں کہ کل ادھر ہوا کیا ہے، ضمنی الیکشن میں ہمیشہ گورنمنٹ کو ایج ہوتا ہے، یہ ایک پولیٹیکل بات ہے، ہوا یہ ہے کہ کل انہوں نے تین بجے کے بعد ہمارے پولنگ ایجنٹس کو باہر نکال دیا.
سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا کہ کنفیوژن ہے، آئی ڈاؤٹ کہ یہ اسٹریٹیجی کا حصہ ہو سکتا ہے۔ اگر اسٹریٹیجی کا حصہ ہے تو مجھے نہیں پتہ کہ کیا بینیفٹس ہیں، یہ تو نہیں ہو سکتا کہ کنفیوڑ کر کے رکھیں، ڈیفرنٹ میسیجز جائیں، کوئی کہہ رہا ہے کہ بات چیت کرنے کو تیار ہیں، کوئی فل فلیج تحریک چلانے کی بات کر رہا ہے تو میرے خیال میں بہت کنفیوژن ہے،دو ایسپیکٹس ہیں.
انہوں نے کہا کہ ایک تو ظاہر ہے وہ ان کی بہن ہیں کچھ وضاحتیں آتی ہیں پارٹی کے لیڈرز کی طرف سے ، ان کا پارٹی میں کوئی عہدہ تو ہے نہیں، جب وہ بات کرتی ہیں تو اپنے بھائی کے حوالے بات کرتی ہیں ایز اے سسٹر جو بھی ان کے جذبات ہیں،گنڈا پور کی بات کی جائے تو وہ کبھی کچھ اور بات کر رہے ہوتے ہیں، عمر ایوب کچھ اور بات کر رہے ہوتے ہیں، میں اس کو ڈس انٹیگریشن تو نہیں کہوں گا میں یہ کہوں گا کہ کنفیوژن کا شکار ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بات کر
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔