آئی ایم ایف پروگرام کے تحت قومی مالیاتی معاہدہ، صوبائی اسمبلیوں کی منظوری لازم
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) آئی ایم ایف پروگرام کے تحت نافذ کیے جانے والے نیشنل فسکل پیکٹ (NFP) پر عملدرآمد کے لیے چاروں صوبوں کو اپنی کابینہ اور صوبائی اسمبلیوں سے منظوری لینا لازمی قرار دے دیا گیا ہے تاکہ وہ یکم جولائی 2025 سے تمام اقسام کی سروسز پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) وصول کر سکیں اور منفی فہرست (Negative List) نوٹیفائی کر سکیں۔اس وقت سروسز پر جی ایس ٹی ایک مثبت فہرست (Positive List) کی بنیاد پر وصول کیا جا رہا ہے، مگر آئندہ مالی سال کے بجٹ سے اس نظام کو تبدیل کرتے ہوئے مثبت فہرست کی جگہ منفی فہرست کا نظام نافذ کیا جائے گا۔اسلام آباد کی حدود (ICT) میں جی ایس ٹی برائے سروسز کا نفاذ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے دائرہ اختیار میں ہو گا۔آئینِ پاکستان 1973 کے تحت، اشیاء پر جی ایس ٹی وفاقی حکومت کا اختیار ہے جبکہ سروسز پر جی ایس ٹی صوبائی حکومتوں کا دائرہ اختیار ہے۔آئندہ بجٹ 2025-26 سے صرف وہی سروسز جی ایس ٹی کے دائرے سے باہر ہوں گی جنہیں منفی فہرست میں شامل کیا جائے گا۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: جی ایس ٹی
پڑھیں:
لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
فائل فوٹوڈسٹرکٹ الیکشن کمیشن نےلاہور میں بلدیاتی الیکشن کی نئی حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی ہے، جن میں 159 یونین کونسلز کا اضافہ کیا گیا ہے۔
صوبائی دارالحکومت میں مجموعی طور پر 433 یونین کونسلز بنائی گئی ہیں، 2015 کے بلدیاتی الیکشن میں لاہور میں 274 یونین کونسلز تھیں۔
ڈسٹرکٹ الیکشن کمیشن لاہور کی ابتدائی فہرست کے مطابق راوی ٹاؤن 52، شالیمار میں 72، واہگہ ٹاؤن میں 25 یونین کونسل قائم کی گئی ہیں۔
ماڈل ٹاؤن میں 77، نشتر ٹاؤن میں 40 اور صدر کینٹ میں 29، رائے ونڈ سٹی میں 32، لاہور سٹی میں 69 اور علامہ اقبال ٹاؤن میں 37 یونین کونسل بنائی گئی ہیں۔
لاہور کے شہری 23 جون تک حلقہ بندیوں پر اعتراضات دائر کرسکتے ہیں، حلقہ بندیوں کی حتمی فہرست 10 اگست کو جاری ہوگی۔