Daily Mumtaz:
2026-07-24@13:19:32 GMT

بجٹ میں نئے ٹیکسزمتعارف کرانے کی تیاریاں

اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT

بجٹ میں نئے ٹیکسزمتعارف کرانے کی تیاریاں

اسلام آباد(طارق محمودسمیر)نئے وفاقی بجٹ کی تیاریاں آخری مراحل میں ہیں،ایک طرف مہنگائی میں ریکارڈکمی کے دعوے کئے جارہے ہیں اوردوسری طرف
ریونیوبڑھانے کے لئے نئے اندازمیں نئے ٹیکسزمتعارف کرانے کی تیاریاں کی جارہی ہیں،آئی ایم ایف کے ساتھ کئی معاملات میں اتفاق رائے کے باوجود عوام کے لئے اس بجٹ میں کوئی بڑا ریلیف ملنے کے امکانات ابھی واضح نہیں ہوئے،چھوٹی گاڑیوں پرٹیکس میں اضافہ یاپھربینکوں سے نقدرقم نکالنے پر بھی ٹیکس بڑھایاجارہاہے اور تو اور،ڈیجیٹل بینکنگ کو فروغ دینے کے نام پر ایک نیاٹیکس بھی متعارف کرایاجارہاہے جس کے تحت پیٹرول پمپوں پر کریڈٹ اور اے ٹی ایم کارڈکے علاوہ جو بھی شخص کیش میں ادائیگی کرے گااس سے اضافی رقم فی لیٹرتین روپے وصول کی جائے گی ،یہ تجویزانتہائی غیرمناسب اور غریب عوام کے لئے ناقابل قبول ہے کیونکہ اس کی زدمیں لاکھوں موٹرسائیکل سوار،عام ٹیکسی ڈرائیورآئیں گے جن کے پاس نہ تو کریڈٹ کارڈ اور نہ ہی اے ٹی ایم کارڈہوتاہے بلکہ اکثرکے بینک اکاونٹس بھی نہیں ہوتے لہذا اس تجویزپرعملدرآمدہونے کی صورت میں شدیدعوامی ردعمل آسکتاہے،وزیراعظم شہبازشریف کو چاہئے کہ وہ بجٹ کے معاملات پرخودتمام تجاویزفائنل ہونے سے پہلے بریفنگ لیں اور پھر حتمی فیصلے کئے جائیں جب کہ دوسری جانب وفاقی وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ نصف سے زائد بجٹ قرضوں کی ادائیگی میں جائے گا، ترقیاتی بجٹ کی رقم رواں سال کے مقابلے میں 100 ارب روپے کم ہے ، 118 سے زائد غیر ضروری منصوبے بندکردئیے ہیں، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ اس وقت وفاقی بجٹ کا نصف سے زائد حصہ قرضوں کی ادائیگی میں صرف ہو رہا ہے اور موجودہ وسائل میں ترقیاتی بجٹ کو مینج کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے،منصوبے بند کرناتو مسائل کا حل نہیں ہوتا ویسے احسن اقبال صاحب،منصوبہ بندی اور پلاننگ کی وزارت چلانے کا سب سے زیادہ تجربہ رکھتے ہیں تقریباًگیارہ سال وہ اس وزارت پرکام کرچکے ہیں کئی بڑے پروگرام بھی دیئے ،حال ہی میں انہوں نے اڑان پاکستان پروگرام دیا ،اس میں کوئی شک نہیں کہ وزیراعظم شہبازشریف کی انتھک محنت کے نتیجیمیں پاکستانی معیشت میں بہتری آئی ہے،مہنگائی میں کمی ہوئی لیکن سرکاری اور نجی شعبے کے ملازمین شدیدمشکلات کا شکارہیں،سرکاری ملازمین کی تنخواہوںمیں تو ہرسال دس سے پندرہ فیصد اضافہ ہوجاتاہے لیکن نجی شعبے میں بہت کم ایساہوتا کہ ملازمین کی تنخواہوں میں ہرسال اضافہ ہو،بجٹ میں ملازمین کو ہرصورت میں ریلیف دیاجائے،دوسری جانب سیالکوٹ کے پی پی 52کے ضمنی الیکشن میں ن لیگ نے میدان مارلیا،ن لیگ کے امیدوار حناارشدوڑائچ نے 78ہزار702،پاکستان تحریک انصاف کے فاخرنشاط گھمن نے39ہزار پیپلزپارٹی کے امیدوارنے 6832اور ٹی ایل پی کے امیدوار نے 4851ووٹ حاصل کئے،اعدادوشماردیکھے جائیں تو ن لیگ کے ووٹ بینک میں بڑا اضافہ ہواہے ،8فروری 2024کے جنرل الیکشن میں اسی نشست پر ن لیگ کے امیدوار چوہدری ارشد وڑائچ مرحوم نے 58ہزار350،تحریک انصاف کے فاخرنشاط گھمن نے 49ہزار 850 ووٹ حاصل کئے تھے اس طرح پی ٹی آئی کا ووٹ بینک دس ہزار کم ہوا،پیپلزپارٹی کے ووٹ بینک میں اضافہ ہواہے جب کہ ٹی ایل پی کے ووٹ بینک میں بھی پچاس فیصد سے زائد کمی ہوئی ہے۔ن لیگ کاووٹ بینک بڑھنے کی کئی وجوہات ہیں ،پنجاب میں وزیراعلیٰ کی کارکردگی اور وفاق میں حکومت کی طرف سے معیشت کو بہتربنانیاور استحکام پیداکرنے کے اقدامات شامل ہیں ۔

Post Views: 5.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

20 سے 29 سال کی خواتین میں ٹائپ 2 ذیابیطس کے کیسز میں تشویشناک اضافہ

امپیریل کالج لندن کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ انگلینڈ میں 20 سے 30 سال کے درمیان کی نوجوان خواتین میں ‘ٹائپ 2 ذیابیطس’ کے کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ نیشنل ہیلتھ سروس کے 2011 سے 2024 تک کے اعداد و شمار کے تجزیے کے مطابق اس اضافے کی بڑی وجہ عالمی وبا (کورونا) کے بعد موٹاپے کی شرح میں ہونے والا اضافہ ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق ٹائپ 2 ذیابیطس ایک موذی مرض ہے جو دل کے دورے اور فالج جیسے شدید نوعیت کے طبی مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔ ‘ذیابیطس یو کے’ نامی خیراتی ادارے کا کہنا ہے کہ جب یہ بیماری کم عمری میں لاحق ہوتی ہے تو اس کا رویہ زیادہ جارحانہ ہوتا ہے، جس سے انسانی اعضاء کو شدید نقصان پہنچنے اور قبل از وقت موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

بروقت تشخیص اور علاج کی اہمیت

ادارے کا کہنا ہے کہ طویل المدتی اعصابی و جسمانی نقصان سے بچنے کے لیے خطرے کی زد میں موجود افراد کی وقت پر تشخیص انتہائی ضروری ہے۔ ٹائپ 2 ذیابیطس کو متوازن غذا اور وزن کنٹرول میں رکھ کر بغیر دواؤں کے بھی قابو میں لایا جا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق صحت بخش غذا کے ساتھ ساتھ وزن کم کرنے والے جدید انجیکشنز اور ادویات (GLP-1) بھی اس سلسلے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ میں تقریباً 60 لاکھ افراد ذیابیطس کے مریض ہیں جن میں سے 90 فیصد ‘ٹائپ 2’ کے شکار ہیں۔ اگرچہ یہ بیماری زیادہ تر عمر رسیدہ افراد کو متاثر کرتی ہے اور نئے کیسز میں بڑا تناسب انہی کا ہے، تاہم اس وقت 30 سال سے کم عمر کے 12 ہزار افراد بھی اس مرض کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، جن میں بڑی تعداد نوجوان خواتین کی ہے۔

بیماری کی اہم علامات

اس بیماری کی عام علامات میں شدید تھکاوٹ کا احساس ہونا، معمول سے زیادہ پیشاب آنا اور  مسلسل پیاس لگنا شامل ہیں۔

نوجوانوں اور خصوصاً خواتین میں تیز رفتار اضافہ

امپیریل کالج کے محققین نے انگلش نیشنل ذیابیطس آڈٹ کے ڈیٹا کا تجزیہ کر کے یہ نتائج اخذ کیے ہیں۔ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بڑی عمر کے افراد میں اس بیماری کی شرح میں معمولی کمی آئی ہے، لیکن 40 سال سے کم عمر افراد میں یہ گراف تیزی سے اوپر جا رہا ہے۔ ان میں سب سے زیادہ اضافہ 20 سے 29 سال کی خواتین میں دیکھا گیا ہے۔

اس کے ساتھ ہی نوجوانوں میں ‘باڈی ماس انڈیکس’ (BMI) کی شرح میں بڑی عمر کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جو کہ اس بیماری کی بنیادی وجہ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ این ایچ ایس کے الگ ڈیٹا کے مطابق، انگلینڈ میں وبا کے بعد سے ہر 3 میں سے ایک شخص موٹاپے کا شکار ہے، اور 2019 سے 2025 کے درمیان 20 سے 29 سال کی عمر کے افراد میں موٹاپے کے کیسز 16 فیصد جبکہ 30 سے 39 سال کی عمر کے افراد میں تقریباً 20 فیصد بڑھے ہیں۔

ماہرین کی تشویش

تحقیق کی سربراہ ڈاکٹر شیوانی مشرا کا کہنا ہے کہ نوجوانوں میں کم عمری ہی سے شدید موٹاپے کا رجحان انہیں ٹائپ 2 ذیابیطس کے خطرے کی طرف دھکیل رہا ہے اور مریضوں کی اوسط عمر کو نیچے لا رہا ہے۔ کم عمری میں ذیابیطس کے بھیانک نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ صورتحال واقعی تشویشناک ہے۔

ڈاکٹر شیوانی کے مطابق پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ یہ بیماری زیادہ تر اقلیتی نسلی گروہوں میں پھیل رہی ہے، لیکن نئے اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ اب گندمی اور سفید فام  آبادی بھی اس کی زد میں آ رہی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ عام صحت کا ایک بڑا عالمی چیلنج بن چکا ہے۔

احتیاطی تدابیر اور مزید تحقیقات

‘ذیابیطس یو کے’ نے زور دیا ہے کہ دورانِ حمل ‘جسٹیشنل ذیابیطس’ کا شکار ہونے والی ماؤں کی پیدائش کے بعد بہتر دیکھ بھال کی جائے، کیونکہ ان میں آگے چل کر ٹائپ 2 ذیابیطس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ بعض تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کے بعد بھی ذیابیطس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، تاہم اس حوالے حتمی شواہد سامنے آنا ابھی باقی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ذیابیطس ٹائپ 2

متعلقہ مضامین

  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ نے عام انسان کی زندگی کو اجیرن بنا دیا
  • 20 سے 29 سال کی خواتین میں ٹائپ 2 ذیابیطس کے کیسز میں تشویشناک اضافہ
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات، اسٹاک ایکسچینج میں 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی
  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ