نادیہ حسین اور شوہر کیخلاف بینک فراڈ کیس میں پیشرفت
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
کراچی: ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ساؤتھ نے 53 کروڑ کے بینک فراڈ کیس میں اداکارہ نادیہ حسین سمیت 3 ملزم کی درخواست ضمانت پر فیصلہ ایک بار پھر موخر کردیا۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ساؤتھ کی عدالت کے روبرو 53 کروڑ کے بینک فراڈ کیس میں اداکارہ نادیہ حسین سمیت 3 ملزم کی درخواست ضمانت کی سماعت ہوئی۔
نادیہ حسین اور دیگر ملزمان پیش ہوئے۔ عدالت نے نادیہ حسین، امتیازاحمد اور فیصل کی درخواستوں پر فیصلہ ایک بار پھر موخر کردیا۔
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ درخواستوں پر فیصلہ 11 جون کو سنایا جائے گا۔ واضح رہے کہ نادیہ حسین، امتیاز احمد اور فیصل عبوری ضمانت پر ہیں۔ استغاثہ کے مطابق امتیاز اور فیصل پر الزام ہے کہ انہوں عاطف خان کے ساتھ ملکر فراڈ کیا۔
یاد رہے کہ عدالت نے اداکارہ نادیہ حسین کے شوہر عاطف خان کی ضمانت مسترد کردی تھی۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: نادیہ حسین
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔