مقامی مصنوعات پر 18 فیصد سیلز ٹیکس ملک دشمن پالیسی ہے، چیئرمین اپٹما کامران ارشد
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
— فائل فوٹو
اپٹما کے چیئرمین کامران ارشد کا کہنا ہے کہ درآمدات زیرو ریٹ کرکے مقامی مصنوعات پر 18 فیصد سیلز ٹیکس ملک دشمن پالیسی ہے۔
اپٹما ہاؤس کراچی میں ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن اسکیم کے مسائل پر جوائنٹ پریس کانفرنس منعقد ہوئی۔
چیئرمین اپٹما نے کہا کہ مقامی صنعت کے لیے ای ایف ایس ختم کرکے شدید نقصان پہنچایا گیا۔ ای ایف ایس سابقہ چیئرمین ایف بی آر نے ختم کیا، فیصلے سے 120 اسپننگ ملیں اور 800 سے زائد جننگ فیکٹریاں بند ہو چکی، ہم نے بہت دروازے کھٹکھٹائے آئی ایم ایف سے بھی ملے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ دھاگا اور کپڑے کو ای ایس ایف سے نکالا جائے، بھاری ٹیکسوں کے ساتھ یہ شعبہ نہیں چل سکتا، مجبور نہ کریں کہ صنعت بند کر کے ہجرت کر جائیں۔
اس موقع پر چیئرمین کراچی کاٹن ایسوسی ایشن (کے سی اے) خواجہ محمد زبیر نے کہا کہ یہ محض اسپننگ اور جننگ انڈسٹری کا معاملہ نہیں ہے، ملیں بند کرکے بےروزگاری نہ پھیلائیں، ایک ایس آر او سے یہ ٹھیک ہوسکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔