لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )سینئر صحافی نجم ولی خان نے ایکس پر پی ٹی آئی کے نومنتخب سینیٹر مراد سعید کا ایک پرانا کلپ شیئر کیا ہے اور دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ارشد شریف کی شہادت سے دو ماہ قبل کون جوجانتا تھا کہ ان کو شہید کردیا جائے گا؟ تمام تانے بانے عمرا ن خان اور پی ٹی آئی سے جا کر ملتے ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی نجم ولی خان نے ایکس پر جاری پیغام میں مراد سعید کی ایک ماضی میں ریکارڈ کروائے گئے مبینہ ویڈیو بیان کو شیئر کیا جس میں مراد سعید کہتے ہیں کہ ’’تھریٹ الرٹس میں خود دیکھ چکا ہوں، لیٹرز گردش کر رہے ہیں، کسی اور ملک میں ارشد شریف کو ٹارگٹ کرنے کی پلاننگ ہوئی ہے ، ارشد شریف کو ٹارگٹ کیا جا سکتا ہے ، یہ اطلاعات ہیں کہ کسی کو ہائر کیا گیاہے ‘‘۔

بارشوں اور سیلاب سے قیمتی جانوں کا ضیاع، پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کی قیادت کا اظہارِ افسوس

نجم ولی نے ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’پی ٹی آئی کارکنوں سے سوال ، كون ارشد شریف کی شہادت سے دو ماه قبل جانتا تھا کہ ان کو شہید کر دیا جائے گا؟ اور پھر کس نے انہیں اپنے سیاسی مفاد کیلیے استعمال کیا ؟تمام تانے بانے عمران خان اور انکی جماعت سے جاکر ملتے ہیں‘‘۔ 

پی ٹی آئی کارکنوں سے سوال

كون ارشد شریف کی شہادت سے دو ماه قبل جانتا تھا کہ ان کو شہید کر دیا جائے گا؟ اور پھر کس نے انہیں اپنے سیاسی مفاد کیلیے استعمال کیا ؟

تمام تانے بانے عمران خان اور انکی جماعت سے جاکر ملتے ہیں۔ غور سے سنیں !!!! pic.

twitter.com/wbvl9cvSHb

— Najam Wali Khan (@najamwalikhan) July 21, 2025

مزید :

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: ارشد شریف کی شہادت سے تھا کہ ان کو شہید کر تانے بانے ملتے ہیں جائے گا نجم ولی

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش