ارشد شریف کی شہادت سے قبل کون جانتا تھا کہ ان کو شہید کر دیا جائے گا؟ تانے بانے عمران خان سے ملتے ہیں: نجم ولی کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, July 2025 GMT
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )سینئر صحافی نجم ولی خان نے ایکس پر پی ٹی آئی کے نومنتخب سینیٹر مراد سعید کا ایک پرانا کلپ شیئر کیا ہے اور دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ارشد شریف کی شہادت سے دو ماہ قبل کون جوجانتا تھا کہ ان کو شہید کردیا جائے گا؟ تمام تانے بانے عمرا ن خان اور پی ٹی آئی سے جا کر ملتے ہیں ۔
تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی نجم ولی خان نے ایکس پر جاری پیغام میں مراد سعید کی ایک ماضی میں ریکارڈ کروائے گئے مبینہ ویڈیو بیان کو شیئر کیا جس میں مراد سعید کہتے ہیں کہ ’’تھریٹ الرٹس میں خود دیکھ چکا ہوں، لیٹرز گردش کر رہے ہیں، کسی اور ملک میں ارشد شریف کو ٹارگٹ کرنے کی پلاننگ ہوئی ہے ، ارشد شریف کو ٹارگٹ کیا جا سکتا ہے ، یہ اطلاعات ہیں کہ کسی کو ہائر کیا گیاہے ‘‘۔
بارشوں اور سیلاب سے قیمتی جانوں کا ضیاع، پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کی قیادت کا اظہارِ افسوس
نجم ولی نے ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’پی ٹی آئی کارکنوں سے سوال ، كون ارشد شریف کی شہادت سے دو ماه قبل جانتا تھا کہ ان کو شہید کر دیا جائے گا؟ اور پھر کس نے انہیں اپنے سیاسی مفاد کیلیے استعمال کیا ؟تمام تانے بانے عمران خان اور انکی جماعت سے جاکر ملتے ہیں‘‘۔
پی ٹی آئی کارکنوں سے سوال
كون ارشد شریف کی شہادت سے دو ماه قبل جانتا تھا کہ ان کو شہید کر دیا جائے گا؟ اور پھر کس نے انہیں اپنے سیاسی مفاد کیلیے استعمال کیا ؟
تمام تانے بانے عمران خان اور انکی جماعت سے جاکر ملتے ہیں۔ غور سے سنیں !!!! pic.
مزید :
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: ارشد شریف کی شہادت سے تھا کہ ان کو شہید کر تانے بانے ملتے ہیں جائے گا نجم ولی
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔