ڈاکوؤں نےمیانداد کو بھی نہ بخشا، 12 بکرے چھین کر فرار
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
کراچی (نیوز ڈیسک) شہر قائد میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت عروج پر ہے، تاہم اس دوران سٹریٹ کرائمز میں بھی تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عمرکوٹ سے آنے والے بیوپاری “میاں داد” کو عائشہ منزل، عرشی مال کے قریب اس وقت لوٹ لیا گیا جب وہ اپنے 12 قربانی کے بکرے فروخت کرنے کراچی پہنچا تھا۔
پولیس کے مطابق مسلح ملزمان نے میاں داد سے تمام 12 بکرے چھین لیے، اور مزاحمت پر اسے دو گولیاں مار کر شدید زخمی کر دیا۔
زخمی بیوپاری کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ پولیس نے واقعے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔
مزیدپڑھیں:بینک سے 50 ہزار کیش نکلوانے والے افراد کیلئے پریشان کن خبر، حکومت کیا کرنے جارہی ہے؟ بڑا دعویٰ
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔