کشمیری نوجوانوں کو ہراساں کرنا افسوسناک ہے، طارق حمید
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نے کشمیر کی روایتی مذہبی رواداری اور ہم آہنگی کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کے لوگ صدیوں سے بلا تفریق مذہب و ملت، رنگ و نسل ہمیشہ ایک دوسرے کے تہواروں میں شریک ہوتے آرہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ہندو تہوار "میلہ کھیر بھوانی" سے قبل کشمیری نوجوانوں کو ہراساں کرنے اور انہیں نظربند رکھے جانے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ نے کشمیر میں لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ کی نکتہ چینی کی۔ سرینگر میں ایک تقریب کے حاشیہ پر میڈیا نمائندوں کے ساتھ خطاب کرتے ہوئے طارق حمید قرہ نے کہا کہ "کھیر بھوانی میلہ" کے پیش نظر درجنوں نوجوانوں کو پولیس اسٹیشن طلب کیا جا رہا ہے، جو سراسر نا انصافی ہے۔ طارق حمید قرہ نے کشمیر کی روایتی مذہبی رواداری اور ہم آہنگی کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کے لوگ صدیوں سے بلا تفریق مذہب و ملت، رنگ و نسل ہمیشہ ایک دوسرے کے تہواروں میں شریک ہوتے آ رہے ہیں اور برسوں سے میلہ کھیر بھوانی یہاں کے روایتی بھائی چارے کی ایک مثال بنی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسا پہلی بار مشاہدے میں آیا ہے کہ کھیر بھوانی کی سکیورٹی کے نام پر کشمیریوں کو تنگ طلب کیا جا رہا ہے۔ طارق حمید قرہ نے دعویٰ کیا کہ انہیں کئی فون کالز موصول ہوئیں جن میں انہیں بتایا گیا کہ برسوں بلکہ دہائیاں قبل جو نوجوان راستے سے بھٹک گئے تھے مگر آج پُرامن زندگی گزار رہے ہیں اور پچاس سال کی عمر کو بھی پہنچ چکے ہیں، انہیں مختلف بہانوں سے ہراساں کیا جارہا ہے جو سراسر نا انصافی ہے۔ طارق حمید قرہ نے پہلگام دہشت گرد حملے میں ملوث افراد کا ابھی تک سراغ نہ لگائے جانے پر بھی بی جے پی کی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پہلگام میں انسانیت سوز حرکت کرنے والے سرحد پار کرکے پہلگام کیسے پہنچے، انہیں آج تک پکڑا کیوں نہیں گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔