’میں نے اپنا وکیل کرلیا‘، ڈاکٹر نعمان کے نوٹس ملنے پر شعیب اختر نے کیا پیغام دیا؟
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاکستان کے سابق فاست بولر شعیب اختر نے ڈاکٹر نعمان کی جانب سے بھیجے گئے ہتک عزت کے قانونی نوٹس کو ’ناقص، بےبنیاد اور سراسر فضول‘ قرار دیتے ہوئے ایڈووکیٹ سلمان نیازی کو اپنا وکیل مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر نعمان نیاز نے 25 مئی 2025 کو تماشا پر چلنے والے کرکٹ شو دی ڈگ آؤٹ کی قسط 31 کے دوران شعیب اختر کی جانب سے دیے گئے ایک متنازع ریمارکس کے بعد انہیں قانونی نوٹس بھیجاتھا۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر نعمان نیاز نے 25 مئی 2025 کو تماشا پر چلنے والے کرکٹ شو دی ڈگ آؤٹ کی قسط 31 کے دوران شعیب اختر کی جانب سے دیے گئے ایک متنازع ریمارکس کے بعد انہیں قانونی نوٹس بھجوادیا۔
I have received a legally defective, unfounded, ego satisfying and utterly frivolous Defamation Notice from Nouman Niaz.
— Shoaib Akhtar (@shoaib100mph) June 2, 2025
شو میں بات کرتے ہوئے شعیب اختر نے کہا تھا کہ ڈاکٹر نعمان نیاز ہمارے بیگ اٹھاتا تھا، ہم نے اس کو بیگ اٹھانے کے لیے رکھا ہوا تھا۔ ان کی اس بات سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ ڈاکٹر نعمان نیاز کرکٹ ٹیم کے لیے بیگ اٹھانے والے کے طور پر کام کیا کرتے تھے۔
ڈاکٹر نعمان نیاز کی قانونی ٹیم نے اس تبصرے کو غلط، توہین آمیز اور ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا حامل قرار دیاتھا، وکیل قاضی عمیر علی کی جانب سے 29 مئی کو بھیجے گئے قانونی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ شعیب اختر کے بیانات سے ڈاکٹر نیاز کی امیج کو بار بار ٹھیس پہنچی اور جذباتی اور پیشہ ورانہ نقصان بھی پہنچا۔
قاضی عمیر علی کے توسط سے شعیب اختر کو بھیجے گئے قانونی نوٹس میں اسپورٹس جرنلزم میں ڈاکٹر نعمان نیاز کی طویل خدمات، پاکستان کرکٹ بورڈ میں ان کے اعلیٰ سطحی کردار اور ان کے تمغہ امتیاز ایوارڈ کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: ’یہ پہلگام میں نشانہ بننے والوں کا مقدمہ لڑنے گئے ہیں یا گانا گانے؟‘، پارلیمانی وفود کی حرکتوں پر بھارت میں غصہ
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: کہ ڈاکٹر نعمان نیاز قانونی نوٹس کی جانب سے
پڑھیں:
کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
کراچی (نوائے وقت رپورٹ) ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔ سپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا کہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا تو ملزموں نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔ 13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بنک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا تھا جب کہ ملزم بنک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہو گئے تھے۔