ایف آئی اے نے نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے اسمارٹ کارڈ اسکینڈل میں ڈھائی کروڑ ڈالر کی مبینہ کرپشن اور مالی بے ضابطگیوں کے الزام میں سابق چیئرمین نادرا طارق ملک سمیت 12 افسران کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
ایف آئی اے نے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی جانب سے بے ضابطگیوں کی نشاندہی کے بعد وزارت داخلہ کی ہدایت پر کارروائی کی اور ایف آئی اے ذرائع کے مطابق نادرا حکام پر پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پیپرا) رولز کی خلاف ورزی، کک بیکس اور کمیشن کے عوض قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔
مقدمے میں چیف پراجیکٹ آفیسر سمیت دیگر افسران کو بھی ملزم نامزد کیا گیا ہے جن پر کرپشن، اختیارات کے ناجائز استعمال اور امانت میں خیانت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ نادرا نے اسمارٹ کارڈز کی خریداری مارکیٹ ریٹ سے کئی گنا زیادہ قیمت پر کی، مارکیٹ میں فی کارڈ کی قیمت 3 سینٹ تھی جبکہ نادرا نے 99 سینٹ فی کارڈ کے حساب سے خریداری کی۔
ایف آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک مخصوص کمپنی کو فائدہ پہنچانے کے لیے ٹینڈر کے عمل میں دانستہ تبدیلیاں کی گئیں۔
ایف آئی اے کے مطابق تحقیقات جاری ہیں اور نادرا کے مزید افسران کو ملزم نامزد کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ اس اسکینڈل سے متعلق اربوں روپے کی مبینہ کرپشن کے مزید انکشافات متوقع ہیں۔

Post Views: 6.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ایف ا ئی اے

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف