سعودی حکومت کی حج کے دوران سخت ہدایات: نعرے بازی، جھنڈے اور تصویر کشی پر پابندی
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
مکہ مکرمہ : سعودی وزارت داخلہ نے حج کے دوران عازمین کو خبردار کیا ہے کہ وہ مقدس مقامات پر تصویر کشی، سیاسی و فرقہ وارانہ جھنڈے لہرانے اور نعرے بازی سے گریز کریں۔
وزارت نے واضح کیا ہے کہ تمام حجاج کرام اللہ کے مہمان ہیں اور ان کی سلامتی، صحت و سہولیات سعودی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
وزارت نے مزید کہا کہ مقامی قوانین کا احترام کرتے ہوئے عازمین مقدس مقامات پر نظم و ضبط کا مظاہرہ کریں اور کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی یا بدنظمی سے اجتناب برتیں۔
دوسری جانب سعودی وزیر حج و عمرہ ڈاکٹر توفیق الربعیہ نے شدید گرمی کے پیش نظر حجاج سے اپیل کی ہے کہ وہ صبح 10 بجے سے شام 4 بجے تک زیادہ وقت اپنے خیموں کے اندر گزاریں اور کھلی دھوپ سے بچیں تاکہ وہ مناسک حج بآسانی اور صحتمند انداز میں ادا کر سکیں۔
ڈاکٹر توفیق کا کہنا تھا کہ غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے اجتناب کریں، تاکہ گرمی کے اثرات سے محفوظ رہا جا سکے اور تھکن یا بیماری سے بچا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔