قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس آج طلب، بجٹ اہداف کی منظوری دی جائے گی
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) قومی اقتصادی کونسل کا اہم اجلاس آج طلب کر لیا گیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز ذرائع کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس پی ایم ہاؤس میں سہ پہر 3 بجے ہوگا جس میں وفاق کے ساتھ صوبائی حکومتوں کے نمائندے شریک ہوں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں آئندہ مالی سال کے قومی ترقیاتی بجٹ اور میکرو اکنامک فریم ورک کی بھی منظوری دی جائے گی، اجلاس میں نئے مالی سال کی معاشی شرح نمو، زراعت، صنعت اور سروسز سیکٹر کے اہداف بھی منظور کئے جائیں گے۔
"پاکستانیز ان شارجہ" PIS میں لیڈیز ونگ کا قیام اور عہدیداران کا اعلان
ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کیلئے قومی ترقیاتی بجٹ تقریباً 4 ہزار ارب روپے اور پی ایس ڈی پی کی مد میں ایک ہزارارب روپے رکھے جانے کا امکان ہے۔
قومی اقتصادی کونسل سالانہ پلان کوآرڈینیشن کمیٹی کے اہداف کے جائزے کے بعد تجاویز کی منظوری دے گی۔
یاد رہے کہ قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس اس سے قبل 5 جون کو طلب کیا گیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: قومی اقتصادی کونسل
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔