بلاول بھٹو کی قیادت میں وفد نیویارک کا دورہ مکمل کر کے واشنگٹن پہنچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
واشنگٹن(نیوز ڈیسک) بھارتی جارحیت دنیا کے سامنے بے نقاب کرنے کا مشن لئے پاکستانی وفد نیویارک کا دورہ مکمل کر کے واشنگٹن پہنچ گیا۔
ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو زرداری سمیت پاکستان کا 9 رکنی سفارتی وفد ٹرین کے ذریعے واشنگٹن پہنچا، وفد کا واشنگٹن کے ریلوے سٹیشن پر پاکستان کے سینئر سفارتی عملے نے استقبال کیا۔
ذرائع کے مطابق 9 رکنی وفد 6 جون تک واشنگٹن میں قیام کرے گا، وفد امریکی حکام اور تھنک ٹینک کے سامنے پاکستان کا مقدمہ پیش کرے گا۔
بلاول بھٹو زرداری دورۂ واشنگٹن میں میڈیا کے نمائندوں سے بھی بات چیت کریں گے، وہ بھارت کی آبی جارحیت اور اشتعال انگیزی سے امریکی حکام کو آگاہ کریں گے۔
یہ خبر بھی پڑھیں: بلاول بھٹو کی یو این سیکرٹری جنرل سے ملاقات، بھارتی مکروہ چہرہ بے نقاب کر دیا
بلاول بھٹو مسئلہ کشمیر حل کرنے کی پیشکش پر ٹرمپ انتظامیہ کا شکریہ ادا کریں گے اور ٹرمپ انتظامیہ پر زور دیں گے کہ مسئلہ کشمیر کا پُرامن حل یقینی بنائیں اور مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق ہو۔
دورہ نیویارک میں وفد نے یو این سیکرٹری جنرل، صدر جنرل اسمبلی، سلامتی کونسل کے منتخب اراکین اور او آئی سی سفیروں سے ملاقاتیں کیں۔
بلاول بھٹو نے جنرل سیکرٹری اقوام متحدہ انتونیو گوتریس سے ملاقات کے دوران سندھ طاس معاہدہ بحال کرنے میں کردار ادا کرنے کی اپیل کی اور خطے میں امن کیلئے فعال کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔
اس کے علاوہ سفارتی وفد نے یو این جنرل اسمبلی کے صدر، فرانسیسی مستقل مندوب سے بھی ملاقات کی اور بھارتی جارحیت سے آگاہ کیا۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بلاول بھٹو
پڑھیں:
نمائندہ یورپی یونین کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں
یورپی یونین کی نمائندہ کایا کالاس—فائل فوٹویورپی یونین کی نمائندہ کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں۔
یورپی یونین کا وفد پاکستان میں وزیرِ اعظم شہباز شریف اور نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار سمیت اعلیٰ حکومتی عہدیداران سے ملاقات کرے گا۔
کایا کالاس نے پاکستان پہنچنے کے بعد اسلام آباد سے ایک انسٹا اسٹوری شیئر کی ہے۔
انہوں نے اپنی انسٹا اسٹوری میں لکھا ہے کہ میں آج اسلام آباد میں ہوں۔
یورپی یونین کی نمائندہ نے مزید لکھا ہے کہ پاکستان ایک بڑی علاقائی طاقت ہے اور یورپی یونین کے لیے ایک اہم شراکت دار ہے۔
انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ یہ دورہ ایک ایسے اہم موقع پر ہوا ہے جب دنیا اور اس خطے نے گہری تبدیلیوں کا تجربہ کیا ہے۔