سلامتی کونسل: غزہ میں مستقل فائر بندی قرارداد پرامریکی ویٹو کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 04 جون 2025ء) نومبر، جب اسرائیل کے سب سے اہم اتحادی امریکہ نے جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کرنے والی قرارداد کو ویٹو کردیا تھا، کے بعد سے اس موضوع پر 15 رکنی سلامتی کونسل کی یہ پہلی ووٹنگ ہے۔
غزہ سیزفائر قرارداد، عالمی سلامتی کونسل ایک بار پھر ناکام
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل غزہ میں جنگ بندی اور انسانی بنیادوں پر غیر محدود رسائی کا مطالبہ کرنے والی قرارداد امریکی ویٹو کی وجہ سے آج بھی ناکام ہو جانے کی توقع ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں غزہ میں جنگ بندی کی قرارداد منظور
یہ قرارداد سلامتی کونسل کے ان دس غیر مستقل رکن ممالک کی جانب سے تیار کی گئی ہے، جنہیں دو سال کے لیے نشست ملتی ہے۔
(جاری ہے)
اس قرارداد میں سات اکتوبر 2023 کو جنوبی اسرائیل میں ہونے والے اچانک حملے کے بعد حماس اور دیگر گروہوں کے قبضے میں موجود تمام قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ دہرایا گیا ہے۔
قرارداد میں غزہ کی انسانی صورت حال کو ’’تباہ کن‘‘ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا گیا ہے کہ غزہ میں انسانی امداد کی رسائی پر عائد تمام پابندیاں فوری اور غیر مشروط طور پر ختم کی جائیں، اور امداد کی وسیع، محفوظ اور غیر محدود تقسیم کو یقینی بنایا جائے۔ اس میں اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار بھی شامل ہوں۔
قرارداد میں مزید کیا ہے؟یہ ووٹنگ بدھ کی دوپہر تاخیر سے متوقع ہے۔ واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی حمایت سے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوجی علاقوں میں امداد کی تقسیم کے نئے مراکز قائم کیے گئے ہیں، جن کے اردگرد تقریباً روزانہ فائرنگ کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ نیا نظام حماس کی گرفت سے بچنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
تاہم اقوام متحدہ نے اس نئے نظام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ غزہ میں بڑھتی ہوئی بھوک کے بحران کا حل نہیں ہے، بلکہ اسرائیل کو امداد کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا ایک ذریعہ فراہم کرتا ہے۔ مزید یہ کہ یہ غیر جانب داری، عدم تعصب اور خود مختاری جیسے انسانی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتی۔
قرارداد میں یہ بھی مطالبہ شامل ہے کہ تمام بنیادی انسانی خدمات بحال کی جائیں، اور یہ بحالی انسانی اصولوں، بین الاقوامی انسانی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ہو۔
اقوام متحدہ کے کئی ممالک سے تعلق رکھنے والے سفارت کاروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ انھیں توقع ہے کہ امریکہ اس قرارداد کو ویٹو کر دے گا۔
اقوام متحدہ میں امریکی مشن نے اس مسودے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جب کہ اسرائیل کے مشن نے تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
قحط کی وارننگغزہ کے تقریباً 20 لاکھ لوگ تقریباً مکمل طور پر بین الاقوامی امداد پر انحصار کرتے ہیں۔
جنگ کی وجہ سے غزہ کی خوراک کی پیداواری صلاحیتیں تباہ ہو گئی ہیں۔ اسرائیل نے دو مارچ سے غزہ کی ناکہ بندی کر دی، تاہم اتحادیوں کے دباؤ اور قحط کی وارننگ کے بعد پچھلے مہینے کے آخر میں محدود امداد پہنچانے کا سلسلہ شروع ہوا۔غزہ میں امدادی سامان کی تقسیم کے مراکز پر حملے، اقوام متحدہ کی تنقید
اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے منگل کو کہا کہ غزہ میں ضروریات بہت زیادہ ہیں اور اقوام متحدہ کے توسط سے غزہ میں جو کچھ کیا جا رہا ہے وہ بہت معمولی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے صرف جزوی ناکہ بندی اٹھائی ہے۔
ادارت: صلاح الدین زین
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے سلامتی کونسل اقوام متحدہ غزہ کی
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔