Daily Ausaf:
2026-06-03@03:47:10 GMT

غزہ: جنگ، جبر اور انصاف کی شکست

اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT

(گزشتہ سےپیوستہ)
اگر اسرائیل صرف طاقت کااستعمال کرے توحماس ہر قسم کے مذاکرات سے پیچھے ہٹ جائے گی۔ یرغمالیوں کی رہائی صرف مذاکرات کے ذریعے ممکن ہے،اورمذاکرات کیلئے حماس کو کچھ یقین دہانیاں درکار ہیں،جیسیےاسرائیلی افواج کامکمل فوجی انخلااورقیدیوں کی رہائی؛ لیکن اب یہ دونوں اہداف بیک وقت حاصل کرناعملی طورپرناممکن لگتاہے۔
اسرائیل کےدوبڑے اہداف ہیں،اسرائیلی یرغمالیوں کی واپسی اورحماس کی مکمل شکست ،تاہم، یہ دونوں اہداف باہم متضادہیں۔ یرغمالیوں کی رہائی صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب اسرائیل حماس کے ساتھ کچھ نہ کچھ مفاہمت پرآمادہ ہو،جیساکہ قیدیوں کے تبادلے یافوجی انخلاکے وعدے۔دوسری جانب اگراسرائیل مکمل عسکری فتح کے راستے پرچلتاہے تووہ حماس کومذاکرات کاکوئی محرک نہیں دیتا۔حماس کیلئے یرغمالی آخری سودے بازی کاپتہ ہیں اوروہ انہیں بغیرکسی بڑے فائدے کے چھوڑنے پرآمادہ نہیں ہوں گے۔
غزہ میں طبی عملے پراسرائیلی فوج نے قریب سے100سے زائدگولیاں چلائیں۔یہ عمل بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی اورسنگین خلاف خلاف ورزی ہے۔جنیوا کنونشن کے تحت طبی ٹیم، ایمبولینس، ہسپتال سب تحفظ یافتہ ہوتے ہیں۔ان پرحملہ نہ صرف اخلاقی طور پرقابل مذمت ہے بلکہ قانونی طورپربھی جنگی جرم ہے۔انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس واقعے کومذموم اورناقابل قبول قرار دیاہے۔ اقوام متحدہ کی ہائی کمشنربرائے انسانی حقوق کی جانب سے بھی اس پرتحقیقات کامطالبہ کیاگیا ہے۔طبی ٹیموں پرفائرنگ واضح جنگی جرم ہے۔
خوراک وادویات کی بندش اورطبی عملے پرحملے کی خبروں سے اب مغربی ممالک کے عوام میں انتہائی بے چینی پیداہوگئی ہے اوراسرائیل کے خلاف میڈیاپربھی شدیدتشویش اور اسرائیل کے خلاف اپنی حکومتوں سے فوری کارروائی کرنے کےمطالبات زورپکڑچکے ہیں۔ فلسطینی علاقوں میں ممکنہ جنگی جرائم کی تفتیش پہلے سےجاری ہے۔
بین الاقوامی قانون کےکئی بنیادی اصول اسرائیل کی غزہ میں موجودہ پالیسی سے متصادم ہیں۔چوتھاجنیواکنونشن1949ء شہریوں کے تحفظ سےمتعلق ہے۔اس کےمطابق شہری آبادی پرحملے ممنوع ہیں۔طبی عملے،ہسپتالوں،خوراک اورپانی کی رسائی کوبندکرناجنگی جرم تصورہوتاہے کیونکہ اجتماعی سزاغیرقانونی ہے۔ آئی سی سی اس گھناؤنے جرم پربین الاقوامی فوجداری عدالت میں اسرائیل کے خلاف قانونی کارروائی کرسکتی ہے۔
اقوام متحدہ بارہا غزہ کی صورتحال کو ’’انسانی بحران‘‘قراردے چکی ہے۔سیکریٹری جنرل نے فوری جنگ بندی کامطالبہ کرتے ہوئے کئی مرتبہ اسرائیل کو تنبیہ کی ہے۔اگراسرائیل غزہ میں مستقل کنٹرول قائم کرتاہے توفردِجرم عائدہوسکتی ہے۔ دیگرریاستوں پربھی ذمہ داری عائدہوتی ہےکہ وہ جنگی جرائم کی حمایت نہ کریں بلکہ انسانیت سوزمظالم پرسفارتی، اقتصادی یاقانونی اقدامات کریں۔
اسرائیل کے مسلسل انسانیت کےخلاف جرائم پربالخصوص اس کے اتحادیوں کاردعمل بھی سامنے آناشروع ہوگیاہے۔برطانیہ، فرانس اور کینیڈا نے اسرائیل کی حکمت عملی کوشدید تنقیدکانشانہ بناتے ہوئےجنگ بندی کامطالبہ کیاہے۔ان ممالک کا کہنا ہے کہ خوراک کی محدود فراہمی اور فوجی کارروائیوں کاپھیلاناقابل قبول ہے۔ روایتی اتحادیوں کی مخالفت سے ظاہرہوتاہےکہ اسرائیل بین الاقوامی برادری میں سفارتی طورپر تنہا ہوتاجارہا ہے۔تینوں ممالک نے اپنے مشترکہ بیان میں بنیادی پیغام جاری کرتے ہوئے اسرائیلی فوجی آپریشنز کے پھیلاؤکی شدیدمخالفت کی ہے، جس سے مرادغزہ کے مزیدعلاقوں پرقبضہ یافوجی کارروائیوں کی شدت میں اضافہ ہے۔ان کا اصرارہے کہ انسانی المیے کی شدت ناقابلِ برداشت ہوچکی ہے،جس میں شہری اموات،طبی سہولیات کاتباہ ہونا،اوربے گھرہونے والوں کی بڑھتی ہوئی تعدادشامل ہے۔
تینوں ممالک نے نیتن یاہوحکومت کی جانب سے غزہ میں خوراک کی فراہمی کوناکافی اور انتہائی محدودقراردیاہے۔بین الاقوامی اداروں کے مطابق،غزہ کی22لاکھ آبادی غذائی قلت،صاف پانی کی کمی،اورادویات کے بحران کا شکار ہے۔ عالمی فوڈ پروگرام نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں قحط نماحالات پیداہوچکے ہیں۔اسرائیل کامحاصرہ اور امدادی ٹرکوں کو روکنا جنیواکنونشنزکی خلاف ورزی ہے،جوفوجی تنازعات کے دوران شہریوں کو بنیادی ضروریات فراہم کرنے کی ضمانت دیتاہے۔
برطانیہ،فرانس،اورکینیڈا جیسے اتحادی ممالک نے اسرائیلی حکمت عملی کی مخالفت کی ہے اورجنگ بندی کامطالبہ کیاہے۔یہ ممالک اس بات کی نشاندہی کررہےہیں کہ اسرائیلی اقدامات انسانی المیے کوبڑھارہے ہیں۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی اسرائیل کے خلاف قراردادیں پیش کی گئی ہیں،لیکن امریکاکی ویٹوپاورنے انہیں روک دیا ہے۔ برطانیہ ،فرانس اورکینیڈانے اسرائیل کی نئی حکمت عملی کوواضح طور پر مسترد کیا ہے۔ یہی وجہ ہےکہ اپنےاپنے ممالک کے عوام کے شدیددباؤ کے بعد، اسرائیل کے تین قریبی اتحادیوں برطانیہ ،فرانس اورکینیڈاکا مشترکہ ردعمل اوربین الاقوامی سفارتی دبائوسامنے آیاہےجس میں انہوں نے عالمی میڈیاکوایک بیان جاری کیاہے: ’’ہم غزہ میں اسرائیلی فوجی آپریشنز کے پھیلاؤ کی شدید مخالفت کرتےہیں۔وہاں انسانی المیے کی شدت ناقابل برداشت ہوچکی ہے‘‘۔یہ عالمی دباؤ اسرائیل کوسفارتی سطح پرمزیدتنہاکرسکتا ہے۔ یہ تین ممالک اسرائیل کے روایتی اتحادی ہیں۔ ان کی مخالفت ظاہرکرتی ہے کہ اسرائیلی پالیسی کواب مغربی حمایت حاصل نہیں رہی۔یہ ایک سفارتی تنہائی کی علامت ہے۔
اسرائیل کی غزہ پرمکمل قبضے کی کوشش بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے اور اس کےسنگین نتائج برآمدہوسکتے ہیں۔ اسرائیل کوحماس کی شکست اوریرغمالیوں کی واپسی میں توازن پیداکرنا ہوگاکیونکہ دونوں اہداف بیک وقت حاصل کرنا ممکن نہیں۔ اسرائیل کی موجودہ پالیسی نہ صرف سیاسی طورپرمتنازع ہے بلکہ قانونی اوراخلاقی لحاظ سے بھی خطرناک ہے۔حماس کوکمزور کرنےکی آڑمیں اگرعام شہریوں کونشانہ بنایاجائے،تویہ عالمی سطح پرناقابل قبول ہوگا۔
اقوام متحدہ،یورپی یونین،اورانسانی حقوق کی تنظیموں کوچاہیے کہ وہ صرف مذمت پر اکتفا نہ کریں بلکہ عملی اقدامات کریں جیسے اسلحے کی فراہمی پر پابندی،تحقیقات کیلئے خصوصی کمیشن ، آئی سی سی میں مقدمات کی شروعات سے آغاز ہونا چاہئے۔ عالمی برادری،خاص طورپرمغربی ممالک کو چاہیےکہ وہ صرف زبانی مذمت کی بجائے ٹھوس سفارتی دبائو ڈالیں۔انسانی امدادکی فراہمی فوری طورپربڑھائی جانی چاہیے تاکہ قحط اورطبی بحران سے بچاجاسکے۔ ( جاری ہے )

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی اقوام متحدہ اسرائیل کی فرانس اور ہے اور

پڑھیں:

قابلِ فخر سعد ایدھی

کراچی ایئرپورٹ پر 23 ء مئی کو ایک ہجوم جمع تھا۔ اس ہجوم کے شرکاء جس میں مرد ، عورتیں، جوان اور بچے شامل تھے، سعد ایدھی کے استقبال کے لیے دور دراز علاقوں سے ایئرپورٹ پہنچے تھے۔ اس ہجوم میں فیصل ایدھی اور ان کی اہلیہ بھی شامل تھیں جو اپنے بیٹے کے استقبال کے لیے آئی تھیں۔ا ن کے ساتھ سعد ایدھی کی اہلیہ بھی تھی جن کی گود میں تین ماہ کی بچی بھی تھی۔ فیصل اپنے والد عبدالستار ایدھی کی روایت کے امین ہیں۔ عبدالستار ایدھی نے بہادری کے ساتھ انسانوں کی مدد کرنے کی زندہ مثالیں قائم کی تھیں۔ فیصل کو فخر ہے کہ ان کا بیٹا ان کے والد کے راستے پر گامزن ہے۔

سعد ایدھی اسرائیل کے کنسرٹیشن کیمپ سے رہا ہو کر ترکیہ پہنچے تھے تو استنبول سے کراچی آرہے تھے۔ سعد ایدھی نے جب فلوٹیلا میں سفر کر کے اسرائیل کا محاصرہ توڑ کر غزہ جانے کا فیصلہ کیا تھا تو ایدھی خاندان کے لیے ایک بری خبر تھی اور اس خبر کا ایک واضح پس منظر تھا۔ چند ماہ قبل ایک اور فلوٹیلا میں سوار ہو کر 430 کے قریب رضاکار غزہ روانہ ہوئے تھے تو اسرائیل کی نیوی نے بین الاقوامی سمندر میں فلوٹیلا پر فائرنگ کی تھی اور توپوں کے گولے پھینکے تھے۔

اسرائیلی فوجوں نے اس فلوٹیلا کے قافلے میں سوار افراد کو گرفتار کر کے بیہمانہ تشدد کا نشانہ بنایا تھا اور عام خیال تھا کہ اس دفعہ اسرائیل کی نیوی فلسطینی شہریوں سے یکجہتی کے لیے آنے والے افراد کو ہلاک کرنے سے گریز نہیں کرے گی۔ ایدھی خاندان کی خواتین سخت پریشان تھیں مگر سعد ایدھی کے والد فیصل ایدھی نے اپنے بیٹے کو اس خطرناک مشن پر جانے سے نہیں روکا تھا، یوں سعد کا حوصلہ بہت بلند ہوگیا تھا۔

غزہ کا علاقہ فلسطین میں شامل ہے۔ فلسطین کے دو حصے دریائے اردن کے مغربی کنارے سے متصل ہیں۔ غزہ کی سرحد ایک طرف مصر سے ملتی ہے تو جنوبی مغرب میں اسرائیل ہے اور مشرق اور جنوب میں بحیرہ روم واقع ہے۔ بحیرہ روم جس کو انگریزی میں Mediterraneen Sea کہا جاتا ہے، یہ افریقہ، یورپ اور ایشیا کے درمیان سمندر ہے جو تقریباً چاروں طرف سے زمین پر بھی گھرا ہوا ہے۔

یہ صرف وہاں سے کھلا ہوا ہے جہاں اسپین اور فرانس آمنے سامنے ہیں اور درمیان میں چند کلومیٹر کا سمندر بحیرہ روم کے شمال میں یورپ، جنوب میں افریقہ اور مشرق میں ایشیا موجود ہے۔ بحیرہ روم 2.5 ملین مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ اسرائیل نے گزشتہ بہت برسوں سے فلسطین کے تمام علاقوں کا بحیرہ روم کے راستہ کا گھیراؤ کیا ہوا ہے۔ غزہ اور فلسطین کے دیگر علاقوںمیں آباد عرب باشندوں کو بحیرہ روم میں نقل و حمل کی اجازت نہیں ہے۔ فلسطین سے محبت کرنے والے سماجی کارکن جن میں یورپ، امریکا، ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکا کے ممالک کے شہری بھی شامل ہیں مسلسل کوشش کررہے ہیں کہ اسرائیل کی ناکہ بندی کو ختم کرایا جائے۔

ان کارکنوں نے فلوٹیلا میں شامل بہت سے چھوٹے جہازوں کا کاررواں کے ذریعے جس میں دنیا بھر کے سماجی و سیاسی کارکن، صحافی اور خواتین شامل ہیں نے غزہ کے ساحل پر پہنچنے کا طریقہ اپنایا ہوا ہے۔ یہ کارکن اپنے خرچہ پر ترکیہ میں جمع ہوتے ہیں اور پھر یہ قافلہ بحیر ئہ روم سے گزرتا ہوا غزہ کے قریب پہنچتا ہے۔ پہلے تو اسرائیلی فوجیں غزہ کے قریب فلوٹیلا سے جہازوں میں سوار افراد کو بندرگاہ سے ہی نکال دیتے تھے مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسرائیلی فوج کا رویہ غیر انسانی ہوتا گیا۔ سعد ایدھی ترکیہ کی بندرگاہ Marmaris Port سے روانہ ہوئے تھے۔ ابھی یہ قافلہ فلسطین اور اسرائیل سے بہت دور بین الاقوامی سمندر میں پہنچا تھا کہ اسرائیل کی گن بوٹس نے فلوٹیلا کے جہازوں پر مارٹر توپ کے گولے پھینکنے شروع کردیے۔ پھر ان فوجیوں نے ربڑ کی گولیاں چلانا شروع کردیں ۔

بین الاقوامی سمندر میں اسرائیل کی اس جارحیت کا کئی جواز نہیں تھا مگر پھر یہ فوجی چھوٹے جہازوں میں کود گئے اور فلوٹیلا کے جہازوں میں رضاکاروں کی کی آنکھوں میں پٹیاں باندھ دی گئیں اور جب یہ لوگ بندرگاہ پر پہنچے تو فلوٹیلا میں شامل 450 افراد کو جن میں بوڑھے، بچے اور خواتین بھی شامل تھے گھسیٹ گھسیٹ کر چھوٹی سی جیل میں دھکیل دیا گیا۔ سعد ایدھی نے کراچی میں بتایا کہ تمام لوگوں کو مسلسل مرغے بنا کر رکھا گیا۔ اسرائیلی فوجی ان رضاکاروں پر بندوق کے پٹ سے حملہ کرتے رہے اور خاص طور پر گھٹنوں اور پسلیوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا۔ کئی افراد کی پسلیاں ٹوٹ گئیں۔

Global Sumud Flotilla کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے فوجیوں نے کم از کم 15 افراد کو جنسی بدسلوکی کا نشانہ بنایا۔ ان منتظمین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسرائیل کے فوجی دستے نے ایک جہاز کو کنسرٹیشن کیمپ میں تبدیل کیا اور اس جہاز کے گرد خاردار تار لگادیئے گئے۔ پھر اس عارضی جیل میں کم گنجائش کے باوجود 450کے قریب رضاکاروں کو رکھا گیا۔ آسٹریلین ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے جانوروں سے زیادہ بدتر سلوک کیا ۔ اٹلی کے ماہرمعاشیات نے اسرائیلی فوج کے بدترین سلوک کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ انھیں 24 گھنٹوں کے دوران بار بار تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور کئی دفعہ رضاکاروں کو زمین پر گھسیٹا گیا ، ان کی آنکھوں پر پٹیاں باندھی گئیں اور انھیں پینے کے لیے پانی تک نہیں دیا گیا۔

سعد ایدھی نے بتایا کہ دون دن کی قید کے دوران صرف ایک ایک بوتل پانی دیا گیا۔ پھر تقریباً ہر رضاکار کے گھٹنوں کو مجروح کرنے کی کوشش کی گئی۔ اسرائیل کے وزیر دفاع نے ایک رضا کار لڑکی کے بال کھینچے اور یہ وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تو یورپ میں شدید احتجاج ہوا۔ فرانس کی حکومت نے اسرائیلی وزیر دفاع کا ویزا منسوخ کردیا۔ یورپی یونین کی ترجمان نے اسرائیل کے رضاکاروں پر تشدد کی شدید مذمت کی۔ برطانیہ، جرمنی، اسپین اور دنیا بھر کے دیگر ممالک نے مظلوم رضاکاروں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

اسرائیل کی حکومت کو اس بات کی توقع نہیں تھی کہ ایشیائی اور افریقی ممالک کے علاوہ برطانیہ ، فرانس اور جرمنی وغیرہ بھی اسرائیل کی انسان دشمن پالیسیوں کے خلاف اتنا سخت ردعمل ظاہر کریں گے۔اس فلوٹیلا کے 50 جہازوں میں زیادہ تعداد اسپین اور دیگر یورپی ممالک کے باشندوں کی تھی۔ یہ لوگ اسرائیل کے جرائم کو آشکار کرنے کے لیے فلوٹیلا کے جہازوں میں سوار ہوئے تھے۔

انھیں اگرچہ اپنے مشن کی کامیابی کی زیادہ امید نہیں تھی مگر انسانیت کی خاطر اور غزہ کے عوام کے ساتھ یکجہتی کے لیے یہ تمام افراد اس فلوٹیلا کا حصہ بنے تھے۔ اس فلوٹیلا میں شریک سماجی کارکنوں نے اسپین کی خانہ جنگی کی یاد تازہ کردی۔ جب اسپین کے فاشسٹ جنرل فرانکو کی حکومت کے خلاف جدوجہد کرنے والے اس بریگیڈ میں دنیا بھر کے ادیب، شاعر اور دانشور شامل ہوئے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ فلوٹیلا کے رضاکاروں پر اسرائیلی فوج کے بیہمانہ سلوک کے خلاف عالمی عدالت انصاف فوری طور پر کارروائی کرے اور اسرائیل کے خلاف اقتصادی پابندیاں عائد کی جائیں۔

فلسطین کے لیے جدوجہد کرنے والے یہ مختلف ممالک کے کارکن صرف فلسطین کے عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔ سعد ایدھی پر پوری قوم کو فخر ہے۔ سعد ایدھی اور دیگر انسانی حقوق کے کارکنوں نے جو جدوجہد کی ہے، وہ وقت جلد آئے گاجب اس جدوجہد کے مثبت نتائج برآمد ہونگے اور فلسطین ایک متحدہ ملک کے طور پر دنیا کے نقشہ پر ابھرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو 41 رنز سے شکست دے دی
  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد