جب مجھے کال آئی کہ بھارت نے حملہ کیا ہے تو میں دفتر آگیا: اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
تصویر: جیو نیوز اسکرین گریب
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ 6 مئی کو پاکستان کا آپریشن روم 24 گھنٹوں کے لیے چل رہا تھا، جب مجھے کال آئی کہ بھارت نے حملہ کیا ہے تو میں دفتر آگیا۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کی فتح پر ویسے تو پوری مسلم امہ میں خوشیاں منائی گئی ہیں، ترکیے اور آذربائیجان میں تو لوگ خوشی سے سڑکوں پر آگئے۔
انہوں نے کہا کہ مجھے پہلی کال ترکیے کے وزیر خارجہ کی آئی، ترک قیادت نے کشمیر کے معاملے پر بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کا اعادہ کیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ایران کے وزیر خارجہ اس بحران کے دوران پاکستان آئے، وہ واپس ایران گئے اور پھر بھارت گئے، ایرانی وزیر خارجہ نے بھارت سے مجھے فون کر کے کچھ باتیں کیں، بھارت میں ایرانی وزیر خارجہ کے ساتھ بھارتی میڈیا نے نامناسب رویہ اختیار کیا تو وہ واپس چلے گئے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت کے گرنے والے 6 میں سے 3 رافیل طیارے تھے، بھارتی وزیراعظم نے پلوامہ کے بعد کہا تھا کہ اگر ہمارے پاس رافیل ہوتے تو میں دیکھ لیتا۔
سبرامنیئن سوامی نے جنگ کے دوران پاکستان پاکستان کی جانب سے بھارتی فضائیہ کے 5 طیارے مار گرائے جانے کا اعتراف کرلیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ 10 مئی کے بعد حکومت کا شکریہ ادا کرنے کے لیے پہلا دورہ تھا، میرے دورہ چین کے دوران دو طرفہ ملاقاتیں بھی ہوئیں، چین نے کہا کہ سہ فریقی کےلیے امیر متقی کو بھی دعوت دے لیں۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ 25 مئی اور پھر 30 مئی تک چار ملکوں کا دورہ تھا.
ان کا کہنا تھا کہ جب آپ جاتے ہیں تو تمام چیزوں پر تبادلہ خیال ہوتا ہے، چین سے دو طرفہ اور سہ فریقی ملاقاتیں غیر رسمی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ جانے سے پہلے چین نے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو سہ فریقی کر لیتے ہیں، 19 مئی کا دورہ چین دو طرفہ تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار نے کہا نے کہا کہ
پڑھیں:
وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
سٹی 42:وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات،وزیر اعظم نے کہا بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چینی کمپنی فیمسنFAMSUN کے چیف ایگزیکٹو افسر جیک چین Jack Chen کی قیادت میں وفد کی ملاقات ہوئی ۔ وزیراعظم نے وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا
وزیر اعظم نے کہا پاکستان اور چین مثالی دوست ہیں، جن کے درمیان معاشی شراکت داری اور دوستانہ تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے یہ دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔وزیر اعظم نے چینی کمپنی کا پاکستان میں اجناس کے سٹوریج کے مراکز کو اسٹیٹ آف آرٹ مراکز میں تبدیل کرنے کے منصوبے کا خیر مقدم کیا۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اس منصوبے سے ملک میں زراعت کے سیکٹر میں جدید ترین ٹیکنالوجی آئے گی اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ پاکستان کی افرادی قوت کی ہنر مندی اور تربیت کو ان منصوبوں کا حصہ بنایا جائے۔
جیک چین نے پاکستان میں پرتپاک میزبانی پر وزیراعظم اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیافیمسن کے چیف ایگزیکٹو نے وزیراعظم سے انکے حالیہ دورہء چین کے دوران اپنی ہونے والی ملاقات کا بھی ذکر کیا، جس کے نتیجے میں وہ پاکستان کا دورہ کررہے ہیں اور غذائی تحفظ کے حوالے سے قابل عمل منصوبے پر بات چیت کی جارہی ہے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
جناب جیک چین نے کہا کہ فیمسن پاکستان میں غذائی تحفظ کے حوالے سے بہتر سٹوریج مراکز، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور تربیت فراہم کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔بریفنگ میں بتایا کہ فیمسن پاکستان میں گرین سائلوز کے قیام کے حوالےسے ڈیمانسٹریشن سینٹر قائم کرے گی سٹوریج سینٹرز کو جدید گرین سائلوز میں بدلا جائے گا ۔فیمسن اور گرین پاکستان انیشئیٹو کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں
ملاقات میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران بھی موجود تھے۔فیمسن زراعت، جانوروں کی خوراک اور فوڈ پراسیسنگ کے حوالے سے چین کی بڑی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار