ذیابطیس نوجوانوں میں دل کی بیماریوں، اموات کی بڑی وجہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
نوجوانوں میں ذیابیطس (ٹائپ 1 اور ٹائپ 2) دل کی بیماریوں اور ’قبل از وقت‘ موت کی ایک بڑی وجہ بن رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی بچے ذیابطیس کا شکار کیوں ہو رہے ہیں؟
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ نوجوانوں میں ذیبیطس کے باعث اموات کی وجوہات میں انسولین کی پیداوار میں کمی، غیر صحت مند طرز زندگی، تمباکو نوشی، فاسٹ فوڈ کا زیادہ استعمال اور موٹاپا شامل ہیں۔
40 سے زائد برس کی عمر کے افراد پر کی گئی ایک تحقیق کے مطابق جوانی میں ذیابیطس کا شکار ہونا بعد کی زندگی میں دل کے امراض اور اموات کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔
سنہ 2000 سے سنہ 2020 تک جاری رہنے والی ایک طویل مطالعاتی رپورٹ میں 5 لاکھ 9 ہزار سے زائد افراد کے ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 1،000 سے زیادہ افراد نوجوانی میں ہی شوگر کے مرض میں مبتلا پائے گئے۔
مزید پڑھیے: ’جنک فوڈ‘ بچوں کی صحت کس طرح تباہ کر رہا ہے؟
تحقیق کے مطابق، انسولین کی کمی کی وجوہات میں تمباکو نوشی، غیر متوازن غذا، موٹاپا، اور پروسیسڈ گوشت کا زیادہ استعمال شامل ہیں۔ یہ عوامل نہ صرف ذیابیطس بلکہ بلڈ کینسر کا خطرہ بھی بڑھاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند دہائیوں میں کھانے پینے کی بدلتی عادات، جسمانی سرگرمیوں میں کمی اور موٹاپے میں اضافہ ذیابیطس اور امراض قلب کے مسائل میں اضافہ کر رہا ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان میں ایک لاکھ بچے ٹائپ ون ذیابطیس کا شکار ہونے کا انکشاف
پہلے دل کے دورے زیادہ تر بزرگ افراد کو ہوتے تھے لیکن اب 30 سال کی عمر کے نوجوان بھی اس کا شکار ہو رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذیبطیس نوجوانوں میں اموات نوجوانوں میں دل کی بیماریاں نوجوانوں میں ذیابطیس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: نوجوانوں میں اموات نوجوانوں میں دل کی بیماریاں نوجوانوں میں ذیابطیس نوجوانوں میں کا شکار
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔