رائل انسٹی ٹیوٹ آف ٹریڈیشنل آرٹس کی جانب سے حجاج کرام کا خیر مقدم اور تحائف کی تقسیم
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
رائل انسٹی ٹیوٹ آف ٹریڈیشنل آرٹس نے زمینی، سمندری اور فضائی راستے سے سعودی عرب پہنچنے والے عازمین حج کو خوش آمدید کہا اور انہیں روایتی تحائف دیے۔
یہ بھی پڑھیں: اس سال حج کے لیے کتنے لاکھ لوگ سعودی عرب پہنچے؟
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق حجاج کے آگاہی مرکز اور سعودیہ ایئر لائن کے تعاون سے کیے گئے اس اقدام کا مقصد حجاج کے تجربے کو ثقافتی اور فکری لحاظ سے بہتر بنانا ہے۔
حجاج کرام کو عربی خطاطی سے مزین جائے نماز اور تمغے دیے گئے جو سعودی ثقافتی اقدار کی عکاسی کرنے والے روایتی نوشتہ جات تھے۔
تحائف کے ساتھ حج کے مناسک کے بارے میں معلوماتی کارڈز بھی تھے جو حجاج کے آگاہی مرکز کی طرف سے فراہم کیے گئے تھے۔
کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ، جدہ اسلامک پورٹ اور حجرہ روڈ پر حج ڈسپیچنگ کنٹرول سینٹر سمیت اہم داخلی مقامات پر تحائف تقسیم کیے گئے۔
مزید پڑھیے: وزیراعظم کل 2 روزہ دورے پر سعودی عرب جائیں گے
رائل انسٹی ٹیوٹ آف ٹریڈیشنل آرٹس کی شرکت روایتی فنون کے بارے میں بیداری پیدا کرنے اور بادشاہی کے دستکاری کے سال کے دوران ایک منفرد حجاج کا تجربہ پیش کرنے کے اس کے مشن کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔
یہ اقدام قومی شناخت کو اجاگر کرتا ہے اور روایتی سعودی فنون کی عالمی موجودگی کو مضبوط کرتا ہے۔
مزید پڑھیں: راستے میں پھنس جانے والے عازمین حج کی مدد کے لیے عمدہ سروس کا آغاز
شاہی ادارے نے حال ہی میں روڈ جنرل اتھارٹی کے تعاون سے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان حجرہ روڈ کے ساتھ ایک بل بورڈ پروجیکٹ مکمل کیا۔ یہ بورڈز مقامی فنون اور علاقائی نمونوں کی خوبصورتی کو ظاہر کرتے ہیں اور ان کا مقصد زائرین کے ثقافتی تجربے کو تقویت دینا اور ورثے کی سیاحت کو فروغ دینا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رائل انسٹی ٹیوٹ آف ٹریڈیشنل آرٹس زائرین حج زائرین کے لیے تحائف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: زائرین کے لیے تحائف کے لیے
پڑھیں:
ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
امریکی فوج کی جانب سے ایرانی جزیرے قشم پر کارروائی کے دعوے کے بعد ایران نے خطے میں موجود امریکی مفادات اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا اعلان کرتے ہوئے جوابی حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق امریکی افواج نے قشم جزیرے میں موجود ایک ایرانی فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کے ردعمل میں کی گئی۔
سینٹ کام کے مطابق امریکی اور اتحادی دفاعی نظام نے متعدد ایرانی میزائل اور ڈرون راستے میں ہی تباہ کر دیے۔
امریکی بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ایران کی جانب سے داغے گئے بعض بیلسٹک میزائل اپنے اہداف تک پہنچنے میں ناکام رہے۔
کویت کی جانب فائر کیے گئے دو میزائل راستے میں گر گئے جبکہ بحرین کی طرف بڑھنے والے تین میزائل امریکی اور بحرینی فورسز نے فضا میں ہی تباہ کر دیے۔
اسی دوران امریکی فوج نے ایک ایسے آئل ٹینکر کو بھی ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جو مبینہ طور پر ایرانی جزیرے خارگ کی جانب رواں تھا۔
امریکی حکام کے مطابق مذکورہ جہاز پر بوٹسوانا کا پرچم لہرا رہا تھا۔
مزید پڑھیںایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
دوسری طرف ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی کارروائی کا فوری جواب دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ قشم میں کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے بعد امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق جوابی کارروائی میں بحرین میں موجود امریکی ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹر، بعض فضائی تنصیبات اور ہیلی کاپٹر مراکز کو ہدف بنایا گیا۔
پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں کا جواب دینا ناگزیر تھا اور خطے میں کسی بھی جارحیت کا بھرپور ردعمل دیا جائے گا۔
عرب میڈیا کے مطابق بحرین، کویت اور عراق میں سیکیورٹی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے جبکہ بحرین کے مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بھی بجائے گئے۔
بحرینی وزارتِ داخلہ نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ادھر ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنائے جانے کے بعد پاسداران انقلاب نے ایک بحری جہاز پر میزائل حملہ کیا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی قیمت امریکا کو چکانا پڑے گی۔