پاکستان سلامتی کونسل کی انسداد دہشتگردی کمیٹی کا نائب صدر منتخب
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
اقوام متحدہ میں سلامتی کونسل کی 15 رکنی انسداد دہشتگردی کمیٹی کی نائب صدارت پاکستان کو مل گئی۔
بھارت کو دنیا بھر میں منہ کی کھانی پڑ رہی ہے۔ گزشتہ ماہ پہلگام فالس فلیگ آپریشن کی آڑ میں پاکستان پر جنگی جارحیت پر جہاں پاک فوج نے منہ توڑ جواب دے کر دنیا بھر میں رسوا کیا، وہیں اپنے انتہا پسندانہ موقف کی وجہ سے دنیا بھر میں ہندوستان کی تنہائی بڑھتی جا رہی ہے۔
ایک اور سفارتی میدان میں پاکستان کو بڑی کامیابی ملی ہے اور بھارٹ کو بڑا دھچکا پہنچا ہے۔ اس کے تمام تر منفی ہتھکنڈوں اور پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 15 رکنی انسداد دہشتگردی کمیٹی کی نائب صدارت پاکستان کو مل گئی ہے۔
سلامتی کونسل کمیٹی عالمی سطح پر دہشتگردی کے خلاف اقدامات کی نگرانی کرتی ہے اور پاکستان طالبان پر پابندیوں سےمتعلق کیمٹی کی صدارت بھی کرے گا۔
یہ کمیٹی طالبان کے اثاثے منجمد کرنے، سفری پابندیوں اور ہتھیاروں کی روک تھام کے فیصلے بھی کرے گی۔
اعلیٰ سفارت کار نے اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی انسداد دہشتگردی کمیٹی کی نائب صدارت ملنے پر کہا ہےکہ ہے اس سے بھارت کا پاکستان کو دہشتگردوں کا سہولت کار قرار دینے کا بھارتی بیانیہ دفن ہو گیا ہے۔
سفارت کار کے مطابق سلامتی کونسل کی 15 رکنی انسداد دہشتگردی کمیٹی کے نائب صدر کی حیثیت سے پاکستان عالمی چیلنجز کے حل میں اپنا فعال کردار ادا کرنے گا۔
واضح رہے کہ بھارت کے دہشتگرد عزائم اور منافقانہ چہرہ بے نقاب کرنے کے لیے پاکستان کا پارلیمانی وفد بلاول بھٹو کی قیادت میں امریکا، برطانیہ اور یورپی ممالک کے دورے پر ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: انسداد دہشتگردی کمیٹی سلامتی کونسل کی پاکستان کو
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔