سائنس دانوں نے دو پراسرار وقوعات (جنہوں نے لگاتار نو دنوں تک دنیا کو ہلا کر رکھا) کے معمے کو بالآخر حل کر لیا۔

ستمبر 2023 میں عالمی سیسمو میٹر (زمین کے نیچے ہونے والی حرکات کی پیمائش کرنے والا آلہ) پر کچھ عجیب چیز کی نشان دہی کی گئی۔ زمین میں ہر 90 سیکنڈ میں ہلکے جھٹکے محسوس کیے گئے اور یہ سلسلہ نو روز تک جاری رہا۔ ایک ماہ بعد یہ معاملہ دوبارہ پیش آیا۔ سائنس دانوں اس غیر معمولی ہونی کو اس وقت بالکل نہ سمجھ سکے۔

تقریباً ایک برس تک کی جانے والی سائنسی تحقیق کے بعد 2024 میں دو مطالعے شائع کیے گئے جن میں ان جھٹکوں کی وجہ دو بڑی لینڈ سلائیڈنگز کو قرار دیا ہے جو مشرقی گرین لینڈ میں موجود ڈِکسن فیورڈ میں دو ’میگا-سونامی‘ کا سبب بنی تھیں۔فیورڈ سمندر کی ایسی تنگ، طویل اور گہری شاخ کو کہتے ہیں جو دو چوٹیوں کے درمیان واقع ہوتی ہے۔

فیورڈ میں پانی کے اندر شدید ارتعاش پیدا ہوا جس سے زمین کی سطح پر حرکات محسوس کی گئیں۔

یونیورسٹی آف آکسفورڈ کے ایک سائنس فیلو ٹھامس موناہن کے مطابق دونوں مطالعوں میں پیش کیا گیا یہ نظریہ ممکن تو ہے لیکن ان میں ایسی کچھ بے ضابطگیاں ہیں جن کی وجہ سے اس کو حقیقی سبب کے طور تسلیم کرنا مشکل ہو رہا ہے۔

لہٰذا ٹھامس اور ان کے ساتھیوں نے اس نظریے کی تصدیق کے لیے تحقیق شروع کی۔ جرنل نیچر کمیونیکیشنز میں شائع ہونے والی تحقیق میں انہوں نے ان بڑی لہروں سیٹلائیٹ کے پہلے براہ راست مشاہدے پیش کیے اور پھر ان کو خلاف معمول زمینی حرکت سے جوڑا۔

محققین نے ناسا کے سرفیس واٹر اوشیئن ٹوپوگرافی (ایس ڈبلیو او ٹی) سیٹلائیٹ (جو کہ دسمبر 2022 میں زمین کی 90 فی صد سطح پر پانی کی بلندی کی پیمائش کرنے کے لیے لانچ کیا گیا تھا) سے حاصل کیا گیا ڈیٹا استعمال کیا۔

ٹھامس کے مطابق اس طرح محققین ایسے پیچیدہ علاقوں میں سمندر کی سطح سے متعلق انتہائی ریزولوشن اسنیپ شاٹ حاصل کر سکتے تھے۔

ان تصاویر نے 2023 میں ان وقوعات کے دوران فیورڈ کی سطح میں تبدیلی کی درست تصویر پیش کی، جس سے محققین کی ٹیم نے بننے والی بڑی لہروں کی ڈھلان کی پیمائش کی۔

ٹھامس موناہن نے بتایا کہ یہ لہریں پگھلتے گلیشیئرز کے ٹوٹ کر گرنے کے بعد وجود میں آئیں۔ گلیشیئر کے ٹوٹنے سے بہت بڑی لینڈ سلائیڈنگ ہوئی اور جب وہ فیورڈ سے ٹکرائیں تو 200 میٹر بڑی میگا-سونامی وجود میں آئیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد کمیٹی کا اہم اجلاس  ہوا جس دوران  دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقاتِ کار میں توسیع کا بڑا فیصلہ  ہو گیا، دن کے طویل دورانیے اور شدید گرمی کے پیشِ نظر اب ملک بھر میں دکانیں، بازار اور شاپنگ مالز رات نو بجے تک کھلے رہ سکیں گے۔

کمیٹی کے فیصلے کے مطابق ریٹیل کاروبار اور شاپنگ مالز کو رات نو بجے تک جبکہ ریسٹورنٹس، کیفے اور کھانے پینے کے مراکز کو رات گیارہ بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت ہوگی۔ دوسری جانب، شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات پر یہ ریلیف لاگو نہیں ہوگا اور وہ بدستور رات دس بجے بند کر دیئے جائیں گے۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ فارمیسیز، اسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات اوقاتِ کار کی اس پابندی سے مکمل طور پر مستثنیٰ ہوں گی۔ اسحاق ڈار کی جانب سے تمام صوبوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہوئے نئی ہدایات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں۔

وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سے بیلجیئم میں پاکستان کے سفیررحیم حیات قریشی کی اہم ملاقات

مزید :

متعلقہ مضامین

  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں