دنیاکو پاکستان اوربھارت کے موقف درمیان واضح فرق دنیاکو نظرآرہاہے،حناربانی کھر
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
اسلام آباد: امریکہ کے دورے پر موجود پاکستان کے سفارتی وفدمیں شاملسابق وزیرخارجہ حناربانی کھرنے کہاہے کہ دنیاکو پاکستان اوربھارت کے موقف درمیان واضح فرق دنیاکو نظرآرہاہے،پاکستان کوایک ذمہ دارملک کے طورپر دیکھاجارہاہے، ہم نے ہرقدم بہت شفافیت کے ساتھ اٹھایا۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتےہوئے حناربانی کھرنے کہاکہ دیکھناچاہئے کہ پاکستان اور بھارت دنیاکے پاس کیالے کرجارہے ہیں،دونوں ملکوں کے موقف درمیان واضح فرق دنیاکو نظرآرہاہے، ہم چاہتے ہیں کہ خطے میں استحکام لایاجائے ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کا موقف بین الاقوامی قانون کو آگے لے جانے پرہے، دنیاپاکستان کوایک ذمہ دارملک کے طورپر دیکھتی ہے۔انہوں نے کہاکہ بھارتی وفدنے اقوام متحدہ کے ساتھ انگیج ہی نہیں کیا، دنیادیکھ رہی ہے کہ بھارت امریکہ،کینیڈامیں بھی دہشت گردی کررہاہے،وہ اپنے دوستوں کے ساتھ بھی ملکرچلنے کوتیارنہیں۔حناربانی کھرنے کہاکہ دنیاپاکستان کو دہشت گردی ختم کرنے کے لئے اہم ملک کے طور پردیکھ رہی ہے،اہم بات یہ ہے کہ ہم نے ہرقدم بہت شفافیت کے ساتھ اٹھایا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔