وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کے لیے کردار ادا کرنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار کو سراہتے ہیں، صدر ٹرمپ نے بغیر کسی شبے کے ثابت کیا کہ وہ امن کے پیامبر ہیں۔

امریکی سفارتخانے میں امریکا کی آزادی کی سالگرہ پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ صدر ٹرمپ پوری دنیا میں معاشی استحکام اور امن چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں جنگ بندی میں ٹرمپ کا کوئی کردار ہے، نہ ہی پاکستان نے ایٹمی حملے کی دھمکی دی، بھارتی خارجہ سیکریٹری

انہوں نے کہاکہ بھارت نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کا الزام پاکستان پر عائد کرکے جارحیت کا ارتکاب کیا، جس پر پاکستان نے اپنا دفاع کا حق استعمال کیا۔

شہباز شریف نے کہاکہ بھارت کو جواب دینے کے بعد جب جنگ بندی کی پیشکش کی گئی تو ہم نے اس کو قبول کیا۔ دوست ممالک کے جنگ بندی میں کردار کو سراہتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ امریکا اور پاکستان دوستی کے نئے رشتے میں داخل ہورہے ہیں، ہم دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔

وزیراعظم نے کہاکہ امریکا کے یوم آزادی پر پاکستانی عوام کی جانب سے امریکی عوام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، امریکا پاکستان کو تسلیم کرنے والے ابتدائی ملکوں میں شامل تھا۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان اور امریکا جمہوری روایات اور آئین کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں، دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی ایک تاریخ ہے۔

انہوں نے کہاکہ 1950 میں امریکا اور پاکستان کے درمیان شراکت داری شروع ہوئی، امریکا نے مختلف ادوار میں پاکستانی معیشت کی مدد کی۔ پاکستان کی سماجی اور اقتصادی ترقی کے لیے مختلف امریکی منصوبے قریبی تعلقات کے عکاس ہیں۔

انہوں نے کہاکہ نائن الیون کے بعد دہشتگردی کے خلاف عالمی جنگ شروع ہوئی، پاکستان کو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار افراد شہید ہوئے اور 150 ارب ڈالر سے زیادہ کا معاشی نقصان ہوا۔

انہوں نے کہاکہ 1980 کی افغان جنگ میں پاکستان فرنٹ لائن ملک تھا، ہم 2018 میں دہشتگردی کا مکمل خاتمہ کر چکے تھے۔ پاکستان ہمیشہ امن، استحکام اور خوشحالی کا داعی رہا ہے۔ ہماری توجہ معیشت کو مضبوط بنانے پر مرکوز ہے۔

یہ بھی پڑھیں سیز فائر کا اعلان کیوں کیا؟ سیکریٹری خارجہ وکرم مسری کو بھارتی انتہا پسندوں کی دھمکیاں

انہوں نے کہاکہ ہم نے بھارت کے خلاف جنگ کے دوران دشمن کے 6 جہاز گرائے، بھارت نے پہلے جارحیت کرتے ہوئے نہتے شہریوں کو نشانہ بنایا، جس کا ہماری طرف سے جواب دیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews امریکا کی آزادی امریکی سفارتخانہ امریکی صدر پاک بھارت جنگ بندی جنگ بندی ڈونلڈ ٹرمپ شہباز شریف وزیراعظم پاکستان وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا کی ا زادی امریکی سفارتخانہ امریکی صدر پاک بھارت جنگ بندی ڈونلڈ ٹرمپ شہباز شریف وزیراعظم پاکستان وی نیوز انہوں نے کہاکہ شہباز شریف کے درمیان کے لیے

پڑھیں:

بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا

بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔

میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔

مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔

یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔

        View this post on Instagram                      

تاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔

حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ