تازہ ترین بریکنگ نیوز یہ ہے کہ تحریک ’’عینکووان‘‘ نے بھی الیکشن میں حصہ لینے کااعلان کر دیا ہے اورٹکٹوں کے امیدواروں سے درخواستیں طلب کی ہیں چونکہ ٹکٹوں کی تعداد محدود اور امیدواروںکا شماربے پناہ ہے،لہٰذا ’’پہلے آئیے پہلے پائیے‘‘ کی بنیادوں پر ٹکٹوں کی تقسیم کی جائے گی البتہ بعض خصوصی لوگ ٹکٹ پانے کے لیے خصوصی چندہ دے کر بھی کوشش کرسکتے ہیں۔
تحریک ’’عینکووان‘‘ دراصل تمام عینک پہننے والوں کی نمایندہ تحریک ہے، انسانوں کے علاوہ اس میں ’’عینک والے جن‘‘ بھی کثیر تعداد میں موجود ہیں، ٹکٹ حاصل کرنے والوں کی کامیابی یقینی ہے بلکہ اس تحریک سے متعلق عینک والے ٹو بلکہ تھری اورفوران بھی ہوتے ہیں مثلاً جن کی قریب کی بینائی کمزورہے وہ تو صرف دوعینک رکھتے ہیں، ایک لگانے کے لیے ، دوسری پہلی والی کو ڈھونڈنے کے لیے ، ایسے ہی دور کی بینائی والے بھی دودو عینکس رکھتے ہیں اورجن کی دور ونزدیک کی دونوں بینائیاں سرکھاچکی ہیں وہ چار چار عینکس رکھنے پر مجبورہوتے ہیں، ایک دورکے لیے ایک قریب کے لیے اورایک دھوپ کے لیے اورچوتھی ان سب کو ڈھونڈنے کے لیے ۔
اس حساب سے دیکھاجائے تو تحریک عینکووان کے ووٹروں کی تعداد باقی ساری پارٹیوں اورتحریکوں سے چار گنا بڑھ جاتی ہے، اس ٹکٹ کے امیدواروں کو ہلہ بول دینا چاہیے ، پھر نہ کہنا خبر نہیں ہوئی…ساغر کو میرے ہاتھ سے لینا کہ چلا میں ۔
اٹھو وگرنہ حشر نہیں ہوگا پھر کبھی
دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا
سنا ہے تحریک عینک وان کے دیکھا دیکھی کچھ اورتنظیموں، تحریکوں اورجماعتوں نے بھی الیکشن میں حصہ لینے کے ارادے باندھ لیے ہیں مثلاً تحریک پیراںومریدان، تحریک عاملاں وکاملاں، تحریک ضمیرفروشاں وایمان فروشاں، تحریک اصول فروشاں ونظریہ فروشاں۔
اس رجحان سے اورکچھ ہو نہ ہو کم سے کم یہ فائدہ تو ضرورہوگا کہ ٹکٹ سستے ہوجائیں گے جو بعض پارٹیوں نے انتہائی مہنگے کیے ہوئے ہیں، سنا ہے، بولیاں بھی لگ جاتی ہیں ۔
ہمیں آپ کے غبی ذہن پر پورا پورا بھروسہ ہے کہ آپ یہ بھی نہیں جانتے ہوں گے کہ پارٹیاں ٹکٹ کے نام پر کیا بیچتی ہیں ، بکرے کو کبھی یہ پتہ نہیں لگتا ہے اس کا مالک قصائی کو کیا بیچتا ہے حالانکہ پڑوسی ملک کی ایک دانیہ دانشورہ لتامنگیشکر کا فرمودہ ہے کہ
کہو جی تم کیاکیا خریدو گے
یہاں ہر چیز بکتی ہے
لیکن اس بازار میں خریدوفروخت کاجو طریقہ قہرخداوندی چشم گل چشم عرف کوئڈ نائینٹین نے نکالا ہے وہ چندے کے دھندے سے بھی زیادہ آسان اور نفع بخش ہے اوراب تو اس نے اپنے اس دھندے کو ڈویلپ کرکے خاندانی بنا لیا کہ جب بھی کوئی الیکشن ہوتا ہے چاہے بلدیاتی ہو ، صوبہ جاتی ہو یا قومیاتی ، اپنے خاندان کے لوگوں کو اس میں کھڑا کردیتے ہیں ، بہت زورشورسے پبلسٹی کرتے ہیں اورپھر کسی کے حق میں ’’بیٹھ‘‘ جاتے ہیں، لیکن ایسے ویسے نہیں بیٹھتے بلکہ قائد اعظم کے احترام میں بیٹھ جاتے ہیں ۔
یہ منافع بخش دھندہ اس نے اس وقت سے شروع کیاہوا ہے جب سے بیٹوں کے لیے چارپانچ پرائیویٹ اسکول کھلوا کر وہ ماہرتعلیم کے طورپر ریٹائرہوگیا ، اس کے ماہرتعلیم ہونے کی کہانی تو ہم بہت پہلے آپ کو سنا چکے ہیں، ہوا یوں کہ جب ہمارے گاؤں میں محکمہ تعلیم سے ریٹائر ہونے والے چپڑاسی نے پرائیویٹ اسکول کھولا تو شریر بچوں کو کنٹرول کرنے کے لیے اس نے چشم گل چشم کو رکھ لیا حالانکہ اس کی پوری تعلیم صبح آٹھ بجے سے دوپہر گیارہ بجے تک تھی ، صبح آٹھ بجے باپ نے اسے اسکول میں داخل کیا اورگیارہ بجے پرائمری اسکول کے استاد نے چار لڑکوں کی مدد سے گھر پہنچوایا ، اب پرائیویٹ اسکول والے نے اسے رکھ تو لیا لیکن اس کے عہدے کا کوئی نام نہ تھا چنانچہ اس نے خود ہی اپنے آپ کو ٹیچر کے عہدے پر فائز کیا، دوچار دن اس عہدے پر رہنے کے بعد اس نے محسوس کیا کہ کیوں نہ اپنا اسکول کھولاجائے کہ اسکول میں لڑکوں کو جاہل بنانے کے علاوہ اورکام تو ہوتا نہیں، یوں اس نے اپنا انگلش ماڈل اسکول کھولا اورپھر مختلف مقامات پر اس کی کئی شاخیں … زیر نگرانی ماہرتعلیم چشم گل چشم ۔
پھر جب ان اسکولوں کو اپنے بیٹوں کے حوالے کیا تو فراغت ہی فراغت تھی اس لیے الیکشنوں میں کھڑے ہونے اورپھر بیٹھنے کا دھندہ شروع کیا، ہرقسم کے الیکشن میں ’’اٹھک بیٹھک‘‘ کا یہ دھندہ اسے اتنا راس آیا کہ کچھ ہی عرصے میں اس نے علامہ بریانی کے چندے کے دھندے کو بھی پیچھے چھوڑدیا ۔لیکن پھر وہ ماجراہوا جس کی وجہ سے اس نے خود تو اس دھندے سے بھی ریٹائرمنٹ لے لی اوربیٹوں کے حوالے کردیا، جن میں سے ہرایک کسی نہ کسی تحریک پارٹی یا تنظیم کاسربراہ ہے ۔
ماجرا یوں تھا کہ جب وہ ایک مرتبہ صوبائی اسمبلی کا امیدواربن کر کھڑا ہوگیا تو اس کے مقابل چار امیدوار بھی سازشاً یااتفاقاً اسی کیٹگری کے نکلے چنانچہ کمپین کے انتہائی عروج کے وقت وہ چاروں اکٹھے اس کے پاس آئے اوراسے یہ خوشخبری سنائی کہ ہم سب نے آپس میں صلاح مشورہ کرکے یہ فیصلہ کیا ہے کہ آپ ہم سب میں زیادہ ہوشیار سمجھ دار تجربہ کار اورایماندار ہیں اس لیے ہم سب آپ کے حق میں دستبردار ہورہے ہیں، اب بیچارے کے پاس بچنے کاکوئی راستہ نہیں تھا چنانچہ ان سب کو ان کا’’خرچہ‘‘ دے کر کھڑے کاکھڑا رہ گیا ، مقابلے میں اب ایک معمولی سا امیدوار رہ گیا تھا جو کسی شمارقطار میں تھا ہی نہیں، لیکن چشم گل چشم اس بات سے قطعی بے خبر رہا کہ اس سازش کے نیچے ایک اورسازش بھی کی گئی ، نتیجہ نکلا تو سارے ووٹ اس معمولی امیدوار کو پڑے تھے ، اس کے حصے میں صرف ’’نو‘‘ ووٹ آئے تھے جو کروڑوں میں پڑے تھے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چشم گل چشم کے لیے
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔