بلوچستان میں این 25 کیلئے بجٹ میں کٹوتی، چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ مریم نواز، سرفراز بگٹی، علی امین، مراد شاہ کی وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں شرکت
ہر صوبے نے اور وفاق نے اپنے مفادات کے مطابق بجٹ بنانا ہے، خیبرپختونخوا کو حقوق مل رہے ہیں، وفاق اور صوبے دونوں کو فائدہ ہو گا،علی امین گنڈاپور کی میڈیا سے گفتگو

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل میں ایک ہزار ارب روپے کا وفاقی ترقیاتی بجٹ منظور کرلیا گیا۔رپورٹ کے مطابق قومی اقتصادی کونسل نے آئندہ مالی سال کیلئے 4۔2 فیصد جی ڈی پی گروتھ کی منظوری دی۔ذرائع پلاننگ کمیشن نے کہا کہ بلوچستان میں این 25 کیلئے بجٹ میں کٹوتی کر دی گئی۔این 25 کیلئے 120 ارب کی بجائے 100 ارب روپے کا پیکج منظور ہوا، جب کہ برآمدات کا ہدف 35 ارب ڈالر مقرر کرنے کی منظوری بھی دی گئی ۔قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس وزیر اعطم ہاؤس اسلام آباد میں ہوا، وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس کی صدارت کی۔وزیراعلی پنجاب مریم نواز، وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی اجلاس میں شریک ہوئے، اس کے علاوہ وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور اور وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔اجلاس میں وفاق اور صوبائی حکومتوں کے نمائندے بھی شریک ہوئے، قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں بجٹ اہداف کی منظوری کے حوالے سے غور کیا گیا۔اجلاس میں قومی ترقیاتی پلان، پی ایس ڈی پی، میکرو اکنامک اہداف کا جائزہ لیا گیا، اجلاس میں نئے مالی سال کی معاشی شرح نمو، زراعت، صنعت، سروسز سیکٹر کے اہداف کی منظوری سے متعلق مشاورت کی گئی۔اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا کہ آج کے اجلاس میں بجٹ کے حوالے سے غور کیا گیا، ہر صوبے نے اور وفاق نے اپنے مفادات کے مطابق بجٹ بنانا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کو اپنے حقوق مل رہے ہیں، ہمارے حقوق ملنے کے بعد وفاق اور صوبے دونوں کو فائدہ ہو گا، اگست میں این ایف سی ایوارڈ کے لئے اجلاس بلانے کا فیصلہ ہوا ہے۔ہمارا صوبہ معاشی طور پر سب سے اچھی پوزیشن میں ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: قومی اقتصادی کونسل اجلاس میں کی منظوری علی امین

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • چیری نے پاکستان میں اپنی گاڑیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں بڑھا دیں
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم