وزیر اعظم کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس، ایک ہزار ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
وزیراعلی پنجاب مریم نواز، سی ایم بلوچستان سرفراز بگٹی، وزیر اعلی کے پی علی امین، سی ایم سندھ مراد شاہ اجلاس میں شریک
قومی اقتصادی کونسل نے ایک ہزار ارب روپے کا وفاقی ترقیاتی بجٹ منظور کرلیا، کونسل نے 13 ویں پانچ سالہ منصوبے، اڑان پاکستان پروگرام اور دیگر سمیت تمام نکات کی اتفاق رائے سے منظوری دے دی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق اجلاس وزیراعظم کے زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں قومی اقتصادی کونسل کے 6 نکاتی ایجنڈا کی اتفاق رائے سے منظوری دی گئی۔
اجلاس کو مالی سال 2024-2025 میں معیشت کی کارکردگی کے حوالے سے نظر ثانی شدہ اشاریے پیش کیے گئے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ 2024-2025 میں 3483 بلین روپے سالانہ قومی ترقیاتی پروگرام پر خرچ کیے جا رہے ہیں، جس میں 1100 بلین روپے وفاق جبکہ 2383 بلین روپے صوبوں کا حصہ ہے۔
اجلاس نے 2024-2025 کے لیے مجموعی قومی پیداوار کی 2.
اجلاس کو بریفنگ دی گئی کہ جولائی 2024 تا اپریل 2025 ترسیلات زر میں 30.9 فیصد اضافہ ہوا اور کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس پہلی مرتبہ مثبت رہا، مالی سال 2024-2025 میں مالیاتی خسارہ مزید کم ہو کر مجموعی قومی پیداوار کا 2.6 فیصد رہا جبکہ پرائمری بیلنس اضافے کے بعد مجموعی قومی پیداوار کا 3 فیصد رہا، حکومتی پالیسیوں اور اقدامات سے پالیسی ریٹ بتدریج کمی کے بعد 11 فیصد پر آیا جبکہ جولائی 2024 سے مئی 2025 تک نجی شعبے کی ترقی کے لیے دیے جانے والے قرضے بڑھ کر 681 ارب تک پہنچ گئے، 2024-2025 میں مجموعی قومی پیداوار کا حجم 114 ٹریلین روپے یا 411 ارب ڈالر ہو گا۔
اجلاس نے 2025-2026 کے سالانہ ترقیاتی پلان کی بھی منظوری دے دی۔ 2025-2026 کے لئے 4224 بلین روپے کے قومی ترقیاتی بجٹ کی بھی منظوری دی جس میں 1000 بلین روپے وفاقی جبکہ 2869 بلین روپے صوبائی ترقیاتی منصوبوں کے اخراجات کے لیے مختص ہوں گے۔ اجلاس نے مالی سال 2025-2026 کے لئے میکرو اکنامک فریم ورک اور اہداف کی منظوری دے دی۔
قومی اقتصادی کونسل نے متعلقہ وزارتوں، صوبوں اور سرکاری اداروں کو ہدایت کی کہ مجوزہ سالانہ پلان 2025-2026 کے اہداف کے حصول کے لئے وزارت منصوبہ بندی کے ساتھ مل کر کام کریں۔ ان ترقیاتی منصوبوں میں صحت، تعلیم، انفرا اسٹرکچر، واٹر سیکٹر اور ہاؤسنگ کے شعبوں کو ترجیح دی جائے گی
قومی اقتصادی کونسل کو اپریل 2024 سے مارچ 2025 تک CDWP کی پیشرفت پر رپورٹ پیش کی گئی۔ اجلاس میں اپریل 2024 سے مارچ 2025 کے دوران CDWP اور ECNEC سے منظور کئے گئے قومی ترقیاتی منصوبوں کی تفصیل بھی پیش کی گئی۔
اجلاس نے 13ویں پانچ سالہ منصوبے (2024-2029) کی منظوری دی۔ قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں اڑان پاکستان فریم ورک کی بھی منظوری دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ 13 واں پانچ سالہ منصوبہ اور اڑان پاکستان باہمی طور پر ہم آہنگ ہیں۔
اجلاس کو سالانہ قومی ترقیاتی پروگرام کے منصوبوں کی تھرڈ پارٹی مانیٹرنگ رپورٹ بھی پیش کی۔ رپورٹ کی سفارشات کی روشنی میں مستقبل کے منصوبوں کی پلاننگ کی جائے۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیر منصوبہ بندی ڈاکٹر احسن اقبال، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ کے ساتھ ساتھ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز، وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور، وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب سرفراز بگٹی اور قومی اقتصادی کونسل کے دیگر ارکان شریک تھے۔
آبی وسائل کے تحفظ کی جد وجہد میں بھی بھارت کو شکست دیں گے،وزیراعظم
وزیر اعظم نے قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس کے تمام نکات کی اتفاق رائے سے منظوری پر شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ قومی امور پر اسی طرح اتفاق رائے پاکستان کے روشن مستقبل کی ضامن ہے۔
اپنے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ اجلاس کے شرکاء کو 10 مئی کے معرکہ حق میں پاکستان کی تاریخ ساز فتح پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ پاک افواج کی پیشہ ورانہ مہارت اور دلیری کی بدولت معرکہ حق میں اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو فتح سے نوازا، بھارت کا پاکستان کے خلاف حالیہ بیانیہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے جس سے خطے میں امن و سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں، پاکستانی عوام ملکی سالمیت کے تحفظ کے لیے بھارت کے خلاف مکمل طور پر یکجا ہیں، بھارت کی پاکستان کو آبی وسائل سے محروم کرنے کی دھمکیاں نا قابل قبول ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم معرکہ حق کے بعد آبی وسائل کے تحفظ کی جد وجہد میں بھی انشاء اللہ بھارت کو شکست دیں گے، تمام وزراء اعلیٰ کے ساتھ خصوصی اجلاس میں بھارتی جارحیت کے تناظر میں پاکستان کے آبی وسائل کے تحفظ کے لیے مضبوط حکمت عملی پر مشاورت کی جائے گی، وفاق اور صوبے مل کر پاکستان کے آبی وسائل کو محفوظ رکھنے میں کامیاب ہوں گے، ملک میں حالیہ معاشی استحکام وفاق اور صوبوں کی مشترکہ کاوشوں کی بدولت ممکن ہوا، ملک معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہے، زرعی شعبہ ملکی زر مبادلہ میں اضافے اور شرح نمو میں اضافے کے لیے مرکزی کردار ادا کرتا ہے، زرعی پیداوار میں بتدریج اضافے کے لیے حکمت عملی تشکیل دی جا رہی ہے۔
علی امین گنڈاپور
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا کہ آج کے اجلاس میں بجٹ کے حوالے سے غور کیا گیا، ہر صوبے نے اور وفاق نے اپنے مفادات کے مطابق بجٹ بنانا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کو اپنے حقوق مل رہے ہیں، ہمارے حقوق ملنے کے بعد وفاق اور صوبے دونوں کو فائدہ ہوگا، اگست میں این ایف سی ایوارڈ کے لئے اجلاس بلانے کا فیصلہ ہوا ہے۔
ہمارا صوبہ معاشی طور پر سب سے اچھی پوزیشن میں ہے۔
تبصرے
ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
–>
Tagsپاکستان
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان قومی اقتصادی کونسل کے مجموعی قومی پیداوار قومی ترقیاتی اتفاق رائے پاکستان کے وزیر اعلی کی منظوری اجلاس میں بلین روپے اجلاس نے اجلاس کو علی امین مالی سال کے تحفظ کہا کہ کے بعد کے لئے کے لیے پیش کی
پڑھیں:
سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ اگر اس مرتبہ بھی انہیں دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو 10 جون کو ملک بھر سے پارلیمنٹیرین اسلام آباد پہنچ کر قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے۔اڈیالہ روڈ سے روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو میں سہیل آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت بانی پی ٹی آئی کی جماعت کی حکومت ہے اور صوبے کے عوام نے بانی پی ٹی آئی کو ووٹ دیا ہے، اس لیے عوام کی خواہش ہے کہ صوبائی بجٹ ان کی ہدایات اور ترجیحات کے مطابق مرتب کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بجٹ کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کر کے ان کی منظوری حاصل کی جائے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، امن عامہ کی صورتحال اور اہم امور پر تبادلۂ خیال
سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ وہ کل اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک درخواست دائر کریں گے اور امید ہے کہ اس مرتبہ ملاقات کی اجازت مل جائے گی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ آج بھی بانی پی ٹی آئی کے اہل خانہ کو ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کوئی جرم نہیں کیا بلکہ انہیں ناحق قید رکھا گیا ہے۔ ان کے بقول پنجاب حکومت اور جیل انتظامیہ کی غفلت کے باعث بانی پی ٹی آئی کی آنکھ میں مسئلہ پیدا ہوا جبکہ عوام میں اس بات پر تشویش پائی جاتی ہے کہ ملاقاتوں پر پابندی کیوں عائد کی جا رہی۔
مایوسی کا دور ختم ، ہم ایک ماہ میں پوسٹ حج آپریشن کامیابی سے مکمل کریں گے: کنٹری منیجر ظہیرالدین آغا
سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے بانی پی ٹی آئی کو مینڈیٹ دیا ہے اور صرف وہی وزیراعلیٰ کو تبدیل کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ان کی ملاقات بیرسٹر گوہر کی درخواست پر ہوئی تھی، علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان پاکستان کا برادر اسلامی ملک ہے اور کسی کی خوشنودی کے لیے دونوں ممالک کے تعلقات خراب نہیں ہونے چاہئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی ہمیشہ یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں اور پاکستان کو خطے میں ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیے، خیبرپختونخوا کے آئندہ بجٹ میں سماجی بہبود، تعلیم اور صحت کے شعبوں کو ترجیح دی گئی ہے۔کرپشن کے الزامات کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کے دفتر کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں اور اگر کسی کے پاس کرپشن کے ثبوت ہیں تو وہ سامنے لائے۔
بری طرح تھکا ہوا تھا، خستہ حال بے خوابی سے بوجھل سوجی آنکھوں میں نیند کی شدت کا درد، آتے ہی چارپائی پر ایسا گرا کہ شام تک ہوش ہی نہیں آیا
مزید :